جمعیت علماء ہند کے قومی صدرمولانا محمود مدنی نے ہریدوار میں شرپسند عناصر کی طرف سے سہ روزہ دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں کو کھلے عام قتل کی دھمکی دینے پر تشویش کااظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں سرکاراور انتظامیہ کی طرف سے خاموش رویہ اختیارکرنے کو پشت پناہی سے تعبیر کیا ہے اور اسے ملک کے انتہائی نقصان دہ بتایاہے۔مولانا مدنی نے ملک کے وزیر داخلہ شری امت شاہ، اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی، قومی اقلیتی کمیشن اور نیشنل ہیومن رائٹس کو خط لکھ کر اس پر فوری توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ملک کے امن وامان، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے شدید خطرہ ہے۔ اس لیے میرا مطالبہ ہے کہ منتظمین اور مقررین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔واضح ہو کہ ۷۱/ تا۹۱/دسمبر ۱۲۰۲ء کے مابین ہریدوار میں ’اسلامی ہندستان میں سناتن دھرم: مسائل اور حل‘ کے عنوان سے ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں بہت سے مقررین نے اشتعال انگیز اور منافرت پر مبنی تقاریر کیں، مسلمانوں کی نسل کشی کی کھلم کھلا اپیل کی اور پوری ہندو برادری کو مسلح کرنے پر زور دیا