مشاعرے ذہنی آسودگی کے ساتھ سماجی بہوبود کا بھی ذریعہ

   

ظہیرآباد میں آزادی کی گولڈن تقاریب کے تحت مشاعرہ ، مختلف مقررین کا خطاب
ظہیرآباد – مشاعرے ذہنی آسودگی فراہم کرنیکے ساتھ ساتھ سماجی بہبود کا بھی ذریعہ ہوتے ہیں – اس لئے وقتاً فوقتاً مشاعروں کا اہتمام و انصرام ہونا چاہئے ۔ ان خیالات کا اظہار سید محی الدین صدر ٹی آر ایس ظہیرآباد ٹاون نے کیا ۔ وہ کل شام واسوی کلیانہ منڈپم ظہیرآباد میں حکومت تلنگانہ کے زیر اہتمام 75ویں یوم آزادی کے ضمن میں منعقدہ سہ لسانی مشاعرہ سے مخاطب تھے۔ انہوں نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ شعراء اپنے قلم کے ذریعہ سماج میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں اور انہیں چاہئے کہ وہ خدا کی دی ہوئی صلاحیت کو بروئے کار لاکر مثبت فکر کے ساتھ اپنے قلم کو جنبش دیں۔ ملک کی آزادی میں شعراکرام کا بھی کافی حصہ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تلنگانہ شعراء ادباء اور فنکاروں کی شروع سے ہمت افزائی کرتی آرہی ہے ۔ یہ مشاعرہ اور کوی سمیلن بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ آ رڈی او ظہیرآباد رمیش بابو نے تمام شعراء کا خیر مقدم کیا اور اپنے مختصر سے خطاب میں کہا کہ شعراء سماج میں تبدیلی کے نقیب ہوتے ہیں – وہ سماج میں موجود خامیوں کا اجاگر کرکے ایک اچھے معاشرہ کی تشکیل میں معاون ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے انہیں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کمشنر بلدیہ ظہیرآباد سبھاش راؤ دیشمکھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی تقاریب کو حکومت تلنگانہ شایان شان انداز میں منارہی ہے ۔ عوام بھی اسی جوش و خروش کے ساتھ اس جشن میں شامل ہوکراپنے محب وطن ہونے کا ثبوت فراہم کررہی ہے۔ اس کوی سمیلن اور مشاعرہ کا انعقاد بھی اسی جشن کا ایک حصہ ہے۔ مشاعرہ اور کوی سمیلن میں سیف الدین غوری سیف , سید منیر ساخر , سعداللہ خان سبیل , ڈاکٹر نوید عبدالجلیل , حافظ نظام الدین عازم , شفیع الدین شفیع ایڈوکیٹ, فیض عباسی , عبدالباری دانش , ویدیاناتھ , ماروتی , سی ایچ وٹھل , راکھی پلوڈ , ڈاکٹر گولا نارائنا و دیگر نے اپنا کلام پیش کیا۔تمام شعراء کو سند اور شالپوشی کے ذریعہ تہنیت پیش کی گئی۔