مصر،لبنان اور اردن کی مسلم برادر تنظیمیں دہشت گرد : امریکہ

   

Ferty9 Clinic

واشنگٹن : 14 جنوری ( ایجنسیز ) امریکہ نے مصر، لبنان، اردن میں سرگرم مسلم برادر تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ ایگزیکٹو آرڈر کے بعد کیا گیا ہے۔’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے مصر اور اردن کی مسلم برادر تنظیموں کو ’اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ‘ جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے لبنان کی تنظیم ’الجماع الاسلامیہ‘ کو ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘ (FTO) کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق ان تنظیموں پر فلسطینی تنظیم حماس کی حمایت اور ’اسرائیلی مفادات کے خلاف سرگرمیوں‘ کا الزام ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ مسلم برادر تنظیمیں بظاہر فلاحی اور سیاسی تنظیمیں بن کر کام کرتی ہیں مگر پس پردہ دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتی ہیں۔مصر کی مسلم برادر تنظیم کے قائم مقام سربراہ صلاح عبدالحق نے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم تمام قانونی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس فیصلے کو چیلنج کرے گی۔اِن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ ہے اور اس کے پیچھے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔امریکی پابندیوں کے تحت ان تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنا غیر قانونی ہوگا، ان تنظیموں کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور FTO قرار دی گئی تنظیم کے ارکان کے امریکا میں داخلے پر پابندی ہوگی۔واضح رہے کہ مسلم برادر تنظیم 1928ء میں مصر میں قائم ہوئی تھی اور اس کی شاخیں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ لبنان میں ’الجماع? الاسلامیہ‘ پارلیمان میں نمائندگی رکھتی ہے جبکہ اردن میں اس کی سیاسی جماعت اسلامی ایکشن فرنٹ نے 2024ء￿ کے انتخابات میں 31 نشستیں حاصل کی تھیں۔دوسری جانب مصر میں 2013ء سے مسلم برادر تنظیم پر پابندی ہے اور حکومت نے اس کے خلاف سخت کارروائیاں کی ہیں۔

امریکیوں کو دھوکہ دینا اب تارکین وطن کو مہنگا پڑے گا:ٹرمپ

ڈیٹرائٹ، 14 جنوری (یو این آئی) ڈونالڈ ٹرمپ نے تارکین وطن کو ڈرانے کے لیے ایک اور اعلان کردیا ہے ، جس کے مطابق امریکیوں کو دھوکہ دینے والے تارکین کی شہریت منسوخ ہوگی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے جا رہے ہیں جنہوںنے ہمارے شہریوں کو دھوکہ دیا ہو اور اس میں انہیںسزا ہوئی ہو، ایسے لوگوں کی شہریت منسوخ کر دی جائے گی۔ ٹرمپ نے منگل کے روز ڈیٹرائٹ اکنامک کلب میں ایک تقریر میں کہا کہ اُن کی انتظامیہ صومالیہ یا کسی بھی دوسرے ملک سے تعلق رکھنے والے ایسے تارکین وطن کی شہریت منسوخ کرنے جا رہی ہے جنھوں نے ‘ہمارے کسی شہری کو دھوکا دیا ہو۔’ انہوںنے کہاکہ اگرآپ امریکیوں کو لوٹنے کے لیے امریکہ آتے ہیں، تو ہم آپ کو جیل میں ڈال دیں گے ، اور ہم آپ کو اس جگہ واپس بھیج دیں گے جہاں سے آپ آئے تھے ۔ ہاں ہم آپ کو بالکل جیل میں ڈالیں گے ۔یہ بیانات منیسوٹا کے شہر منیاپولس میں صومالی نژاد امریکی کمیونٹی پر تازہ ترین حملے کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ٹرمپ نے اپنی ملک بدری (ڈی پورٹیشن) مہم کو تیز کر دیا ہے ۔ منیاپولس امریکہ کے وسط مغربی خطے کا ایک شہر ہے جہاں صومالی برادری کی بڑی تعداد آباد ہے ۔ یہ کریک ڈاؤن اس وقت سامنے آیا جب ایک دائیں بازو کے سوشل میڈیا اثر و رسوخ رکھنے والے شخص (رائٹ وِنگ انفلوئنسر) نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا کہ منیاپولس میں رہنے والے صومالی باشندے سرکاری طور پر سبسڈی یافتہ ڈے کیئر مراکز سے متعلق بڑے پیمانے پر دھوکا دہی میں ملوث ہیں۔ ان الزامات کی تحقیقات ابھی جاری ہیں، تاہم اس کے باوجود ٹرمپ نے ڈیموکریٹک قیادت والی پانچ ریاستوں کو وفاقی سطح پر بچوں کی نگہداشت کی ادائیگیاں روک دی ہیں۔

امریکی وزیر صحت کا ٹرمپ سے متعلق حیران کن انکشاف
واشنگٹن :14 جنوری ( ایجنسیز )امریکی وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی خوراک غیر معمولی ہے، وہ فاسٹ فوڈ، مٹھائیوں اور ڈ کولڈرنکس کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔کینیڈی نے انکشاف کیا کہ سفر کے دوران ٹرمپ بین الاقوامی نامور فوڈ کمپنیوں کا کھانا اس لیے کھاتے ہیں کہ وہ اسے محفوظ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتنا جنک فوڈ استعمال کرنے کے باوجود ٹرمپ نہایت متحرک ہیں اور یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیسے اتنے صحت مند ہیں اور زندہ ہیں۔