مطالبات کی عدم تکمیل پر 26 جنوری کو دہلی تک ٹریکٹر پریڈ کا انتباہ

,

   

4 جنوری کی بات چیت ناکام ہونے پر کسان یونینوں کا تحریک میں شدت پیدا کرنے کا اعلان
نئی دہلی: حکومت کے ساتھ بات چیت کے اگلے دور سے قبل اپنے موقف میں سختی پیدا کرتے ہوئے احتجاجی کسان یونینوں نے آج کہا کہ اگر ان کے مطالبات کی تکمیل نہ کی گئی تو 26 جنوری کو جب کہ سارا ملک یوم جمہوریہ کا جشن منارہا ہوگا ، وہ دہلی تک ٹریکٹر پریڈ نکالے گے ۔ توقع ہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن 26 جنوری کو قومی دارالحکومت میں ہوں گے ۔ وہ یوم جمہوریہ پریڈ کی تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے ، جو راج پتھ پر منعقد کی جائے گی۔ زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لینے اور اقل ترین امدادی قیمت ( ایم ایس پی ) کو قانونی موقف دینے کے مطالبے پر 4 جنوری کو حکومت کے ساتھ میٹنگ میں معاہدہ نہ ہونے پر کسان تنظیموں نے پورے ملک میں تحریک تیز کرنے کی دھمکی دی ہے ۔کسان لیڈر بی ایس راجے وال، درشن پال، گرنام سنگھ چڈھونی، حنان مولا،جگجیت سنگھ ڈلے والا،شیوکمار شرما ککا جی اور یوگیندر یادو نے ہفتے کو پریس کانفرنس میں کہا کہ 4 جنوری کو حکومت کے ساتھ آٹھویں دور کی بات چیت ہے اور اس کے ناکام ہونے پر 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت دہلی میں ٹریکٹر ٹرالی پریڈ نکالی جائے گی۔ اس سے پہلے دہلی کے آس پاس کے کسانوں کے ٹریکٹر ٹرالی کو 25 جنوری کو قومی دارالحکومت میں بلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 23 جنوری کو سبھاش چندر بوس کی جینتی کے موقع پر ملک بھر میں راج بھونوں پر مظاہرہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر مرکز کے نمائندے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔کسان قائدین نے کہاکہ بات چیت ناکام ہونے پر 5 جنوری سے ہی ملک بھر میں احتجاجی مظاہرہ تیز کردیا جائے گا۔کسان تنظیموں نے 6 جنوری کو ’کے ایم پی ہائی وے‘ پر ٹریکٹر ٹرالی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتاپارٹی حکومت پر دباؤ بڑھانے کا وقت آگیا ہے جس کی وجہ سے احتجاجی مظاہرکے تمام طریقے اختیار کئے جائیں گے ۔کسان تنظیم پچھلے38 دنوں سے زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لینے اور اقل ترین امدادی قیمت کو قانونی حیثیت دینے کے مطالبے کے سلسلے میں قومی دارالحکومت کی سرحدوں کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔