مطالبات کی یکسوئی تک گھر واپسی ناممکن : کسان

,

   

چکہ جام ، 2 اکٹوبر تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
نئی دہلی : مودی حکومت کے تین متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات کی یکسوئی تک گھر واپس نہیں ہوں گے اور نہ ہی مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے زور دیں گے ۔ بھارتیہ کسان یونین لیڈر راکیش تکٹ نے کہا کہ ہفتہ کی دوپہر کسانوں کا چکہ جام پرامن رہا ، ریاستی اور قومی شاہراہوں پر شاہراہیں بند تھیں ۔ دہلی اترپردیش سرحد غازی پور پر جمع کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے راکیش تکٹ نے یہ بھی کہا کہ ان کا احتجاج اب روکے گا نہیں بلکہ 2 اکٹوبر تک اس احتجاج کو جاری رکھا جائے گا ۔ اس تاریخ تک حکومت کو اپنے قوانین واپس لینے ہوں گے ۔ اگر حکومت قوانین واپس لینے میں ناکام ہوتو کسان گروپ ان قوانین کے خلاف اپنے احتجاج کو مزید وسعت دیں گے ۔ ہم اس وقت تک گھر واپس نہیں ہوں گے تاوقتیکہ ہمارے مطالبات پورے کیے جائیں ۔ ٹکت جن کے آنسوؤں نے سارے ملک کی عوام پر اثر کیا تھا 26 جنوری یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریالی کے دوران تشدد کے بعد راکیش تکٹ نے ملک کی عوام سے اپیل کی تھی کہ ان کے احتجاج میں شامل ہوجائیں ۔ اس کے بعد کسانوں نے اپنے احتجاج کو مزید مضبوط بنانے کا منصوبہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دباؤ کے تحت حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے ۔ آج چکہ جام شروع ہونے سے قبل راکیش تکٹ نے غازی پور احتجاجی مقام پر پھولوں کے پودے لگائے جہاں پر مرکز نے کسانوں کو روکنے کے لیے کیل ٹھوک دیے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ہماری راہوں میں کیل ٹھونکے تو ہم پھول پیدا کریں گے ۔ مرکز اور ہمارے کسانوں کے درمیان کے تعلقات طویل مدت تک جاری رہیں گے ۔ ملک کے کئی حصوں میں کسانوں نے چکہ جام کیا ۔ اترپردیش ، اتراکھنڈ اور دہلی میں چکہ جام نہیں کیا گیا ۔ 15 اضلاع میں 33 مقامات پر سڑکیں بند کردی گئیں ۔ تاہم جہاں پر روزانہ لوگ سفر کرتے ہیں ان کے لیے ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کسانوں نے راستہ دیتے ہوئے رکاوٹیں ہٹا دیں ۔ ایمبولنس اور ایمرجنسی گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی گئی ۔ دہلی کے اطراف سرحدوں پر کسان جمع ہیں ۔ گذشتہ نومبر سے جاری یہ احتجاج شدت اختیار کررہا ہے ۔ مودی حکومت نے کسانوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے آہنی دیواریں کھڑی کردی ہیں ۔ جگہ جگہ کنکریٹ بیررس اور لوہے کی تیز سلاخوں کو گاڑھ دیا ہے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے تین زرعی قوانین ان کی روٹی روزی چھیننے کے لیے بنائے گئے ہیں ۔ ان قوانین سے ہماری روزی کو خطرہ ہے ۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ بھی ہمارا استحصال کریں گے ۔۔