مظاہرین نے اسرائیل کیلئے ہتھیار لے جانے والے امریکی فوجی جہاز کو روک لیا

   

نیویارک: امریکہ میں مظاہرین نے مبینہ طور پر اسرائیل کیلئے ہتھیار لے جانے والے امریکی فوجی جہاز کو روک دیا ہے۔ سینکڑوں فلسطینی حامی مظاہرین نے واشنگٹن میں ٹاکوما کی بندرگاہ پر Cape Orlando نامی فوجی سپلائی جہاز کو روکنے کیلئے ریالی نکالی جس کے بارے میں ان کا خیال ہیکہ وہ امریکہ سے اسرائیل کیلئے ہتھیار لے جائے گا۔ریلی میں شریک مظاہرین کے نمانئدوں نے بتایاکہ ’ہم غزہ جنگ بندی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کا قتل ہونا بند ہو جائے۔ ہم امریکی خارجہ پالیسی اور اسرائیل کو امریکی فنڈنگ کے بارے میں تحقیقات بھی چاہتے ہیں۔‘ٹاکوما میں کیپ اور لینڈو کہلانے والے جہاز کو ہر عمر کے مظاہرین کا سامنا کرنا پڑا جو رین کوٹ، پفر جیکٹس اوڑھے اور چھتریاں تانے احتجاج کر رہے تھے، مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ بینرز پر ’غزہ کا دفاع کریں ‘، ’فلسطین کو آزاد کرو‘، ’ایک اور نکل نہیں، ایک اور پیسہ نہیں، اسرائیل کے جرائم کیلئے مزید رقم نہیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔ دوسری طرف پینٹاگون کے ترجمان جیف جورگنسن نے کہا ہیکہ یہ جہاز درحقیقت ’امریکی فوجی کارگو کی نقل و حرکت‘کی مانیٹرنگ کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔ امریکی دفاعی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اتوار کو مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی آبدوز ایک گائیڈڈ میزائل آبدوز ہے جو نیوکلیئر ہتھیار فائر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔پیر کو پینٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹ رائڈر نے کہا کہ اوہائیو کلاس آبدوز امریکی ‘خطے میں ڈیٹرنس کی کوششوں’ کیلئے ‘مزید مدد’ فراہم کرے گی۔ امریکی محکمہ دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر جاری کی ہے جس میں آبدوز کو سوئز نہر سے ہوتے ہوئے بحیرہ احمر میں جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے حال ہی میں امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو 14 بلین ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کرے۔
، یہ 3.8 بلین ڈالر کے علاوہ ہے جو امریکہ نے پہلے ہی 2023 کے لیے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔