معاشی ابتر صورتحال سے توجہ ہٹانے این آر سی پر زور

   

’’ہندوتوا حکمران ‘‘ ملک میں فرقہ وارانہ تفریق پیدا کرنے کیلئے کوشاں
نئی دہلی ۔17 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی (ایم) نے جمعرات کو بتایا کہ حکومت قومی رجسٹربرائے شہریان ( این آر سی ) اور غیر ملکیوں کے مسئلہ پر اس لئے زور دے رہی ہے کہ ملک کی معاشی ابتر صورتحال سے عوام کی توجہ ہٹائی جائے ۔ سی پی آئی ( ایم) نے اپنے ترجمان رسالے ’’ عوامی جمہوریت‘‘ کے حالیہ شمارے کے اداریہ میں حکومت کو ’’ ہندو توا کے حکمرانوں ‘‘ کی حکومت قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت فرقہ وارانہ پھوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے اداریہ میں مزید کہاگیا کہ ایک ایسے وقت جب کہ معیشت افراتفری کا شکار ہورہی ہے اور بیروزگاری بڑھ رہی ہے ، صارفین کی قوت خرید میں کمی ہورہی ہے اور محرومیت عام ہوچکی ہے ۔ ایسی صورت میں ہندو توا نظریہ کے حکمرانوں کی ملک کے اندر و باہر ( خیالی) دشمنوں کی ضرورت ہے ۔ اس نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ ایک طرف تو حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ این آر سی کے ذریعہ ملک سے تمام ’’ مسلم بنگلہ دیشی مداخلت کاروں ‘‘ کو نکال باہر کیا جائے گا اور دوسری طرف وہ یہ تیقن بھی دے رہی ہے کہ وہ شہریت کے ایکٹ میں ترمیم کر کے ہندو تارکین وطن اور پنا ہ گزینوں کو شہریت دے دی گی۔