معیشت پر سرکاری دعوی اور حقیقت

   

ملک کی معاشی صورتحال کا اگر غیر جانبدارانہ جائزہ لیا تو جائے تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ صورتحال اچھی نہیںہے ۔ ہرگذرتے دن کے ساتھ ملک کی معاشی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے اور اس کے اثرات راست یا بالواسطہ طور پر عوام پر مرتب ہوتے جا رہے ہیں۔ جہاں معاشی حالتا چھی نہیں ہے وہیں مہنگائی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ عوام کی جیبوں پر اس کا بھی بوجھ عائد ہو رہا ہے ۔ ملک کے کئی اہم شعبہ جات میں ابتر معاشی حالت کا اثر دیکھا جا رہا ہے ۔ کئی شعبوں پر دباو بڑھ گیا ہے ۔ ان کی پیداوار متاثر ہوکر رہ گئی ہے ۔ صنعتوں میں تیار کی جانے والی اشیا کی مارکٹوں اور بازاروں میں طلب اور کھپت کم ہوگئی ہے ۔ کئی اہم شعبہ جات میں ملازمتیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ لاکھوں نوجوانوں کی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے حقیقت کے اعتراف سے گریز کرتے ہوئے اب بھی اعدادو شمار کے الٹ پھیر کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں ہی جاری ہیں۔ گذشتہ چند مہینوں کے دوران حکومت کی جانب سے مختلف مواقع پر کئی امدادی پیاکیجس کا اعلان کیا گیا تاکہ معیشت میں نئی جان ڈالی جاسکے ۔ جو سستی اور انحطاط کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے اس کو دور کیا جاسکے ۔ حکومت کے یہ پیاکیجس ہی اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاشی حالت اچھی نہیں ہے ۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہوسکا ہے کہ حکومت کے امدادی پیاکیجس کا کس حد تک فائدہ ہوا ہے اور کونسے شعبہ میں کتنی بہتری آئی ہے ۔ بظاہر جو جائزہ سامنے آ رہا ہے اس سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان پیاکیجس کے ذریعہ بھی حکومت معیشت کو استحکام کی راہ پر لانے میں اب تک تو کامیاب نہیں ہو پائی ہے اور آئندہ وقتوں میں بھی حالات جلد معمول پر آنے کی بجائے مشکلات میں اضافہ ہی ہوسکتا ہے ۔ جملہ گھریلو پیداوار کے تعلق سے جو پیش قیاسیاں کی جا رہی ہیں وہ اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ سرکاری دعووں سے قطع نظر صورتحال مستقبل قریب میں معاشی حالت بہتر ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے ۔ مرکزی حکومت تاہم اس صورتحال اور حقیقت کو قبول کرنے ہرگز بھی تیار نظر نہیں آتی ۔
جملہ گھریلو پیداوار کی جو شرح گذشتہ مہینوں میں رہی ہے اور مستقبل کے تعلق سے ریزرو بینک نے جو پیش قیاسی کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں معاشی انحطاط کا آغاز ہونے والا ہے اورا س کے اثرات راست طور پر ساری معیشت پر اور عوام پر مرتب ہونگے ۔ حکومت وقفہ وقفہ سے ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑ روپئے کے امدادی اور راحتی پیاکیجس کا اعلان کر رہی ہے لیکن صورتحال اب بھی توقعات کے مطابق نہیں ہو پائی ہے ۔ کورونا وائرس کے بعد جو لاک ڈاون لاگو کیا گیا تھا اس کی وجہ سے صورتحال بے انتہاء ابتر ہوئی ہے ۔ لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہوگئے ہیں۔ ایک سے دوسرے شہر کو ان کی منتقلی عمل میں آئی ہے ۔ اپنے آبائی شہروں اور ریاستوں میں ان کیلئے کوئی روزگار نہیں ہے ۔ حکومتوں کی جانب سے انہیں ملازمتیں یا روزگار فراہم کرنے کے دعوے تو کئے جا رہے ہیں لیکن زمینی حقیقت اور صورتحال ان دعووں کے بالکل برعکس نظر آتی ہے ۔ جہاں ملازمتیں کم ہوگئی ہیں اس کے نتیجہ میں بازاروں کی حالت بھی اچھی نہیں رہ گئی ہے ۔ عوام کی قوت خرید میں کمی آئی ہے ۔ لوگ صرف انتہائی ضرورت کی اشیا اور ادویات کی خریداری پر توجہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران آٹو موبائیل شعبہ میں قدرے تیزی آئی ہے اور گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ صرف ایک شعبہ تک محدود ہے اور اسے بحیثیت مجموعی بازار کی صورتحال یا پھر صنعتی شعبہ میں حالات کے بحال ہونے اور بہتری آنے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ۔
معاشی میدان میں جو انحطاط کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے اس کے کئی عوامل اور وجوہات ہوسکتی ہیں جس کیلئے مرکز کو مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ماہرین سے مشاورت کرتے ہوئے ایک منصوبہ اور حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت محض اپنے انداز میں کچھ امدادی پیاکیجس کا اعلان کرتے ہوئے حالات کو بہتر نہیں بناسکتی ۔ دیرپا اثرات اور مستقبل کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے منصوبہ تیار کیا جانا چاہئے ۔ عوام پر جو بوجھ مسلسل عائد ہوتا جا رہا ہے اس کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بحیثیت مجموعی ساری معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنا ہی مرکزی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔