معین آباد ڈرگس معاملہ کی جانچ میں حکومت کا کوئی رول نہیں، ریونت ریڈی کی وضاحت

   

ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا، تلنگانہ میں 2029 میں لوک سبھا اور اسمبلی کے بیک وقت چناؤ، دہلی میں چیف منسٹر کی میڈیا سے بات چیت
حیدرآباد۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ معین آباد ڈرگس کیس میں حکومت کا کوئی رول نہیں ہے اور قانون کے مطابق پولیس کارروائی کررہی ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے ڈرگس کیس کے معاملہ میں حکومت کی مداخلت کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ کیس میں ملزمین کو قانون کے مطابق پولیس اسٹیشن میں ضمانت دی گئی ہے اور اس معاملہ سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ ڈرگس معاملہ کی تفصیلی جانچ کے لئے حکومت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ معین آباد کے فارم ہاوز میں ڈرگس پارٹی کے معاملہ میں آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے تلگودیشم کے رکن پارلیمنٹ ٹی مہیش کی ضمانت کے سلسلہ میں چیف منسٹر پر اپوزیشن الزام تراشی کررہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پولیس اسٹیشن میں ضمانت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلی جانچ میں مزید حقائق کا انکشاف ہوگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 2029 میں تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات ہوں گے اور انہیں امکان ہے کہ اسمبلی اور لوک سبھا کے انتخابات بیک وقت ہوسکتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 2028 میں اسمبلی انتخابات کے امکانات موہوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل اگر خواتین تحفظات پر عمل کیا جائے تو بہتر رہے گا۔ چیف منسٹر نے ریاست میں وسط مدتی انتخابات کے امکانات کو خارج کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی میعاد کے اعتبار سے 2028 میں انتخابات ہونے چاہئیں لیکن انہیں اس بات کا امکان دکھائی دے رہا ہے کہ 2029 میں اسمبلی و لوک سبھا کے انتخابات ایک ساتھ منعقد ہوں گے۔ ڈرگس کیس کے بارے میں سوالات پر چیف منسٹر نے کہا کہ اس معاملہ میں مزید جانچ کے لئے 9 عہدیداروں پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اس معاملہ میں ایلور سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ ٹی مہیش کمار کو حراست میں لیا گیا تاہم انہیں پولیس اسٹیشن میں ضمانت دی گئی۔ اس معاملہ میں میرا یا حکومت کا کوئی رول نہیں ہے اور قانون اپنا کام کررہا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کو ڈرگس سے پاک ریاست بنانے کے لئے حکومت اقدامات کررہی ہے۔ ڈرگس کے سلسلہ میں کسی سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ اس معاملہ میں کسی کو بخشنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں انتظامی خامیوں کو دور کرتے ہوئے نظم و نسق کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ 1