سابقہ اسٹینڈنگ کونسل کے خلاف کارروائی کا آغاز ، سی ای او وقف بورڈ اسد اللہ
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔ 23۔اپریل۔تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے معین منزل معاملہ میںجان بوجھ کر مقدمہ میں عدم پیروی کے علاوہ کوتاہی کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کردیا ہے ۔ جناب اسد اللہ چیف ایکزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کی جانب سے معین منزل کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا رہے ہیں اور بورڈ کی جانب سے کسی بھی طرح کی کوتاہی سے کام نہیں لیا جارہا ہے بلکہ معین منزل موقوفہ جائیدادکے سلسلہ میں بورڈ کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کیا جاچکا ہے اور جلد ہی خاطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ جناب اسد اللہ سی ای او وقف بورڈ نے روزنامہ سیاست میں شائع ہونے والی خبروں کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ سابق اسٹینڈنگ کونسل کی جانب سے معین منزل مقدمہ کے دوران تلنگانہ ہائی کورٹ میں لاپرواہی کی گئی جس کی نشاندہی پر ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جاچکا ہے اور خاطی پائے جانے والے سابق اسٹینڈنگ کونسل کے خلاف متعلقہ اتھاریٹیز سے شکایات بھی کی جاچکی ہیں۔ معین منزل موقوفہ جائیداد پر جو کہ جملہ 1984 مربع گز ہے اور اس جائیداد پر قابضین کی جانب سے ’’جین مندر‘‘ کے ساتھ ہمہ منزلہ رہائشی کامپلکس کی تعمیر کی منصوبہ بندی کو روزنامہ سیاست نے آشکار کرتے ہوئے منظر عام پرلایا تھا اور اس کے بعد وقف بورڈ میں جاری دھاندلیوں کے علاوہ ان دھاندلیوں میں ملوث عہدیداروں کے خلاف عدم کاروائی کے سلسلہ میں دباؤ کے متعلق بھی انکشاف کیاگیا تھا ۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے معین منزل وقف جائیداد کے سلسلہ میں ’’ادارہ سیاست ‘‘ کے لئے جاری کردہ اطلاع میں اس بات کی توثیق کی گئی ہے کہ معین منزل کے متعلق 6رٹ اپیل تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر دوراں ہیں اور وقف بورڈ ان مقدمات میں سینیئر وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ روزنامہ سیاست کو وقف بورڈ کی جانب سے روانہ کی گئی اطلاع جس کے لئے باضابطہ فائل نمبر 03/J2/SNTC/Hyd-III/99 تیار کرتے ہوئے یہ اطلاع فراہم کی گئی ہے لیکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے پاس سپریم کورٹ میں زیر دوراں مقدمات کی فائیلیں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی سابق اسٹینڈنگ کونسل یہ فائیل حوالہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں ۔ سابق اسٹینڈنگ کونسل کو اعلیٰ عہدیداروں کی پشت پناہی حاصل ہونے کے سبب وہ وقف بورڈ کی جانب سے متعدد مرتبہ طلب کئے جانے کے باوجود کئی مقدمات کی فائیلیں حوالہ کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو چاہئے کے وہ مہیشورم میں موجود موقوفہ جائیداد کے علاوہ کونگرا کلاں اور کونگرا خرد ‘ عاشور خانہ علی سعدؒ اور سیف نواز جنگ موقوفہ اراضیات کے مقدمات میں ہونے والی شکست کا بھی فوری طور پر جائزہ لینے کے اقدامات کرے اور ان موقوفہ جائیدادوں کے ساتھ ساتھ بوڈ اپل میں موجود کروڑہا روپئے مالیاتی وقف جائیدادکے معاملہ میں ہونے والی پیشرفت کے متعلق آگہی حاصل کرنے کے اقدامات کا آغاز کریں کیونکہ ان تمام معاملات میں بڑے پیمانے پر عہدیداروں اور اسٹینڈنگ کونسل کے علاوہ دیگر افراد کی جانب سے دھاندلیاں کی گئی ہیں اور ان دھاندلیوں کو منظر عام پر لاتے ہوئے اس میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے ۔ وقف بورڈ کی جانب سے سیاست کے لئے جاری کی گئی اطلاع میں اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اگر وقف بورڈ کے کسی عہدیدار کی جانب سے کوتاہی یا نااہلی کی توثیق ہوتی ہے تو ایسی صور ت میں ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی جبکہ وقف بورڈ میں خدمات انجام دے رہے عہدیداروں کو اس بات کی علم ہے کہ بورڈ کے شعبہ قانون میں کون دھاندلیوں میں ملوث ہیں کیونکہ عہدیداروں کی جانب سے متعلقہ عہدیدار سے مقدمات کی فائیلوں کے متعلق دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ ان کی نقولات بھی بورڈ میں موجود نہیں ہیںجبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ سرکاری دفاتر سے کی جانے والی مراسلت کے لئے ایک فائل تیار کی جاتی ہے اور جو مراسلت کی جاتی ہے اس کی نقولات بھی دفتر میں موجود ہوتی ہیں۔سیاست کو روانہ کی جانے والی اطلاع کی فائل کا نمبر وقف بورڈ کے پاس موجود ہے جبکہ بورڈ کی جانب سے کروڑہا روپئے مالیتی موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے لئے عدالتوں میں داخل کئے گئے مقدمات کی نہ کوئی فائل ہے اور نہ ہی ان فائیلوں کے نمبرات بورڈ کے شعبہ قانون میں موجود ہیں۔