مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کاو سیع آپریشن جاری

   

یروشلم: مغربی کنارے میں تقریبا ایک ہفتے سے اسرائیلی فوج کا وسیع آپریشن جاری ہے۔ آج منگل کے روز نابلس شہر کے مشرق میں بلاطہ کیمپ اور جنین کے جنوب میں مثلث الشہداء گاؤں پر دھاوا بولا گیا۔ علاوہ ازیں طولکرم پناہ گزین کیمپ کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی مغربی کنارے میں حالیہ حالات نے اسرائیلی سیکورٹی اداروں کو اسے غیر ثانوی جنگی میدان قرار دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ اخبار نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ فوج کے نزدیک اس کے علاقے ‘فوجی سیکورٹی آپریشنز’ کا میدان بن چکے ہیں۔اسرائیلی فوج نے پیر کی شام اعلان کیا تھا کہ مغربی کنارے کے شمال میں متعدد شہروں، پناہ گزین کیمپوں اور دیہات میں کیا جانے والا آپریشن میدانی صورتحال کے جائزے کے مطابق مزید کچھ روز جاری رہے گا۔ اسرائیل نے گذشتہ چہارشنبہ کو مغربی کنارے میں ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ یہ 2002 کے بعد مغربی کنارے میں سب سے بڑی عسکری کارروائی ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ مسلح جماعتیں شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔آپریشن میں سینکڑوں اسرائیلی فوجی شریک ہیں۔ کارروائی میں انھیں ڈرون طیاروں اور لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی معاونت حاصل ہے۔ اس کے سبب جنین اور اس کے نزدیک واقع پناہ گزین کیمپ میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا۔