مفت پانی کی اسکیم سے واٹر بورڈ کو ماہانہ 19 کروڑکا نقصان

   

بلز کی ادائیگی کے رجحان میں کمی، حکومت سے تعاون کیلئے رپورٹ پیش
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) میں حکومت کی جانب سے مفت پانی کی سربراہی اسکیم کے اعلان کے بعد حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کو ماہانہ 19.2 کروڑ کا نقصان ہورہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہر مستحق خاندان کو 20 کیلو لیٹر پانی کی مفت سربراہی کی اسکیم کے آغاز کے بعد کئی شہریوں نے آبرسانی بلز کی ادائیگی بند کردی ہے جس کے نتیجہ میں ماہانہ 19 کروڑ کا نقصان ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسکیم میں شمولیت کی توقع رکھنے والے افراد نے بلز کی ادائیگی روک دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت آنے والے شہریوں کو میٹر نصب کرنے اور آدھار کارڈ سے مربوط کرنے ہدایت دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ واٹر بورڈ نے اسکیم پر عمل آوری کے لئے 20,000 کروڑ کے خرچ پر مبنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے۔ بورڈ نے شہر کے مضافاتی علاقوں میں سیوریج نیٹ ورک کو عصری بنانے کیلئے 3800 کروڑ کی منظوری کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں مضافاتی علاقوں کی بلدیات کو گریٹر حیدرآباد میں شامل کیا گیا ہے۔ آوٹر رنگ روڈ میں مجالس مقامی اور گرام پنچایتوں کی ذمہ داری واٹر بورڈ کو دی گئی ہے ۔