تل ابیب : اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 3 نئی یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت دے دی۔اسرائیلی وزیر خزانہ Bezalel Smotrich نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی کنارے اور وادی اردن میں بیت ہوگلا، ایویگیل اور اسیل کی یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بستیوں میں بڑی اہم پیش رفت ہوئی ہے، حکومتِ اسرائیل، اسرائیلی ریاست کے فائدے کے لیے مغربی کنارے میں بستیوں کی ترقی کا خیال رکھنے والے نسل پرست، صہیونی اور دائیں بازو کے افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے لوگوں سے وعدہ کیا تھااور اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور ملک میں آبادکاری کی پالیسی میں تبدیلی کی ہے، اگرچہ ہم سست رفتاری سے پیشرفت کر رہے ہیں لیکن آبادکاری کی تحریک جاری رہے گیجس پر آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔دوسری جانب خطے میں آبادکاروں کے ٹیلی ویڑن چینل 7 پر نشر ہونے والی خبروں میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج کی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر نے بستیوں کے انتظامات پر کام شروع کرنے کے فیصلے پر دستخط کر دیئے ہیں۔مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں تقریباً 700,000 یہودی آباد کار تقریباً 300 غیر قانونی اور غیر قانونی بستیوں میں مقیم ہیں۔ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔