مقدمات کی نگرانی کے لیے مرکزی انوسٹی گیشن ٹیم قائم کرنے کی تجویز

   

اکٹوبر کے ماہانہ جرائم کا جائزہ ، پولیس عہدیداروں سے تبادلہ خیال ، کمشنر پولیس سجنار کا خطاب
حیدرآباد 28 نومبر (سیاست نیوز) حیدرآباد پولیس کمشنروی سی سجنار نے مرکزی انوسٹی گیشن ٹیم کے قیام کا اعلان کیا ہے جو اہم مقدمات کی نگرانی کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پولیس کا اصل مقصد صرف مجرموں کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ انہیں عدالتوں میں سخت سزا دلوانا ہے۔ کمشنر پولیس نے اکٹوبر کے ماہانہ جرائم کا جائزہ اجلاس ٹی جی آئی سی سی سی آڈیٹوریم، بنجارہ ہلز میں عہدیداران سے خیالات کا تبادلہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مقدمات کا رجسٹریشن اور تحقیقات کی پیشرفت کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے نئے مقدمات کی بڑھتی تعداد اور پرانے مقدمات میں برات کے معاملات پر خاص توجہ دی۔ جائزہ کے بعد انہوں نے عہدیداران کو کئی اہم ہدایات دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی جائے۔ شکایات کو دبانے یا جرم کی سنگینی کو کم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ لہٰذا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے عہدیداران کو معطل کیا جائے گا۔ کمشنر پولیس نے طویل عرصے سے زیرالتواء مقدمات کی فوری اور موثر تفتیش پر زور دیا۔ خواتین کو پولیس اسٹیشن میں عزت و احترام کے ساتھ پیش آنے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے ہر کیس کے لیے ایک واضح ’’کارروائی کا منصوبہ‘‘ بنانے کو کہا تاکہ تفتیش میں کوئی کمی نہ رہے۔ منشیات، سڑک حادثات، آن لائن گیمنگ جیسے جرائم پر سخت کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا۔ انھوں نے عہدیداران کو مزید ہدایت دی کہ سائبر کرائم، خواتین کی حفاظت، اسٹریٹ کرائم اور فوڈ ایڈلٹریشن کے مقدمات پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کمشنر وی سی سجنار نے کہا کہ ایس ایچ اوز کو روڈی شیٹرس اور عادی مجرموں پر نگرانی بڑھانی ہوگی تاکہ ان کے حلقہ کار میں جرائم نہ ہوں۔ انہوں نے سنگین جرائم میں ملوث افراد پر پی ڈی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے تکنیکی شواہد کے جامع حصول پر زور دیا تاکہ سزا کی شرح بڑھے۔ انھوں نے کہاکہ جب مجرموں کو سخت سزائیں ملیں گی تو ان میں خوف پیدا ہوگا۔ سائبر کرائمس کے بڑھتے ہوئے واقعات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پولیس سے جدید تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور ماہرین کی مدد سے تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔ کمشنر پولیس نے پولیس افسران کو حکم دیا کہ ڈیوٹی کے دوران ہتھیار لازمی ساتھ رکھیں اور ہر 15 دن بعد ہتھیاروں کی مشق کروائی جائے۔ انہوں نے ہر عہدیدار کو اپنے حلقہ کار پر مکمل گرفت رکھنے اور ایس ایچ اوز کو نئے ملازمین کی رہنمائی کر کے زیرالتواء مقدمات کو جلد نمٹانے کی ہدایت دی۔ب