ملائیشیا کیلئے حماس اور اس کے حامیوں کیخلاف یکطرفہ پابندیاں ناقابل قبول: انور ابراہیم

   

کوالالمپور : ملائیشیا نے امریکی یا کسی اور ملک کی طرف سے حماس اور اس کے حامی دیگر فلسطینی جماعتوں کیخلاف یکطرفہ پابندیوں کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پابندیاں امریکہ ‘ انٹرنیشنل فنانسنگ پریوینشن ایکٹ’ کے تحت لگاتا ہے۔ تاکہ اس کی ناپسندیدہ جماعتوں کو کسی طرف سے بھی مالی امداد نہ مل سکے۔حماس کے حوالے سے امریکی ایوان نمائندگان نے پچلے ہفتے ان پابندیوں کا بل منظور کیا گیا تھا۔ تاہم سینیٹ میں ابھی اس بارے میں ووٹنگ ہونا باقی ہے۔ ملائیشیا کی طرف سے ان ممکنہ پابندیوں کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان وزیر اعظم انور ابراہیم نے اپنے ایک تحریری جواب میں کیا ہے۔انور ابراہیم نے منگل کے روز اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت سارے معاملے کو قریب سے مانیٹر کر رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اکیلا ملائیشیا ہی جس پر حماس کو مادی مدد دینے کا کہہ کر پابندیاں لگائی جائیں۔انہوں نے مزید کہا اگر ملائیشیا پر پابندیاں لگائی گئیں تو اس سے امریکی کمپنیاں بھی اس طرح متاثر ہوں گی جس طرح کہ ملائیشن کمپنیاں ان پابندیوں سے متاثر ہوں گی۔مسلم اکثریتی ملک ملائشیا ایک طویل عرصے سے فلسطین کاز اور مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا کا کھلا حامی ہے۔ حماس کے کئی رہنما گاہے گاہے ملائشیا کا ماضی میں دورہ بھی کر چکے ہیں۔وزیر اعظم انور ابراہیم نے پچھلے دنوں حماس کی مذمت کے لیے امریکی دباؤ کی پروا نہ کی تھی۔ جس پر امریکہ نے تشویش ظاہر کی۔