کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم پیر کو اسرائیل کے کٹر حامی جرمنی کے دورے کے دوران فلسطینی گروپ حماس کے ساتھ اپنے ملک کے مسلسل تعلقات کا دفاع کرنے پر مجبور ہو گئے۔7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے بے مثال حملے سے غزہ کی پٹی میں جنگ چھڑ گئی جس میں پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ گذرنے کے بعد بھی لڑائی ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور ملک میں لوگ بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں۔برلن میں جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے انور سے بار بار حماس کے ساتھ ملائیشیا کے دیرینہ تعلقات اور جنگ پر مؤقف کے بارے میں پوچھا گیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملائیشیا کے روابط حماس کے سیاسی ونگ کے ساتھ ہیں اور مزید کہا کہ میں اس کے بارے میں کوئی معذرت نہیں کرتا۔