کمیشن کی میعاد میں توسیع باعث تشویش، اتم کمار ریڈی کا چیف منسٹر کو مکتوب
حیدرآباد۔/22 فبروری، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سرکاری ملازمین، اساتذہ اور پنشنرس کیلئے پی آر سی پر عمل آوری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پی آر سی پر عمل آوری میں تاخیر کے سبب ملازمین، اساتذہ اور پنشنرس میں پھیلی بے چینی سے واقف کرایا اور کہا کہ حکومت نے پے ریویژن کمیشن کی میعاد میں ڈسمبر تک توسیع کردی ہے جس کے سبب رپورٹ میں تاخیر کا اندیشہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 4 لاکھ اساتذہ اور سرکاری ملازمین ہیں جبکہ 3 لاکھ پنشنرس موجود ہیں۔ یہ پے ریویژن کمیشن رپورٹ کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین، اساتذہ اور پنشنرس کیلئے توقع کے مطابق فٹمنٹ کا فوری اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حصول تلنگانہ کی جدوجہد میں ملازمین، اساتذہ نے اہم رول ادا کیا تھا۔ 42 دنوں تک ملازمین اور اساتذہ نے عام ہڑتال کرتے ہوئے نظم و نسق کو ٹھپ کردیا تھا۔ انہیں امید تھی کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد ان کے مسائل کی یکسوئی ہوگی لیکن تلنگانہ کے قیام کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے گزشتہ چھ برسوں میں مایوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی اُمور میں حکومت نے سرکاری ملازمین کے مسائل کی یکسوئی نہیں کی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ پی آر سی کے سلسلہ میں یکم جولائی 2018 سے عمل آوری نہیں کی گئی اور 20 ماہ گزرنے کے باوجود کمیشن نے رپورٹ پیش نہیں کی ہے۔ حکومت کی جانب سے کمیشن کی میعاد میں 10 ماہ کی توسیع پر اتم کمار ریڈی نے اعتراض جتایا اور اس کی وجوہات بیان کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ریاست کی معاشی حالت مستحکم ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن دوسری طرف حکومت پی آر سی پر عمل آوری کرنے تیار نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملازمت سے سبکدوش ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس دور حکومت میں پابندی سے پی آر سی پر عمل کیا گیا۔ 2006 میں آٹھویں پی آر سی کے تحت 50 فیصد فٹمنٹ ، 2010 میں 39 فیصداور 2013 میں 27 فیصد فٹمنٹ دیا گیا۔دسویں پی آر سی میں 43 فیصد فٹمنٹ کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے بین ضلعی تبادلوں کیلئے 2012 میں احکامات جاری کئے تھے لیکن تلنگانہ ریاست میں احکامات پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ ملازمین کو سرکاری دواخانوں میں طبی سہولتوں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔