مشاورتی اجلاس اور مستقل لائحہ عمل ضروری
شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا ڈاکٹر مولانا احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 27 اگست (پریس نوٹ) اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا کہ اے حبیب ﷺ کہہ دیجئے کہ دنیا کی تمام محبتیں، رشتہ داریاں اور مال و دولت اگر اللہ اور اس کے رسولؐ سے زیادہ محبوب ہے تو پھر اللہ کے عذاب کا انتظار کرو۔ صحابہ کرام ؓ نے اپنی زندگی بھر حضورؐ کی ناموس کی حفاظت کی اور آپؐ کی عزت و احترام کو سب سے زیادہ مقدم رکھا ۔ توحید کا تصور دیگر مذاہب میں بھی ہے،لیکن اسلام کی بنیاد اور مرکز ذات محمد ؐ ہے۔حیدرآباد میںایک ملعون کے خلاف ناموس رسالتؐ کے دفاع میں وہ نوجوان پیش پیش تھے ، جنھیں بے دین سمجھا جاتا ہے اور ان پر تنقیدیں کی جاتی ہیں۔ ان نوجوانوں نے پولیس کمشنریٹ کے سامنے نماز فجر کا باجماعت اہتمام بھی کیا۔ مدارس، علماء اور خانقاہوں نے امت کو مختلف فرقوںمیں بانٹ دیا لیکن عوام نے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور جماعت اسلامی جیسی تفریق کو ختم کرکے بے مثال اتحاد کا ثبوت دیا۔اس دن محمد رسول اللہ ؐ کے نام پر اتحاد کی روح کا زبردست منظر سامنے آیا۔ ان خیالات کا اظہار شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے جمعہ کے خطبے کے دوران کیا ہے۔مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ اللہ رب العزت نے رسول اللہ ؐ سے محبت کو امت مسلمہ کے خمیر میں شامل کیا ہے۔ شان رسالت ؐمیں گستاخی کے خلاف منظم انداز میں اور پر امن طریقہ سے نوجوانوں کا بغیر کسی مذہبی و سیاسی قیادت کے احتجاج مسلمانان دکن کی تاریخ کا انمول واقعہ ہے۔ اس دن شیعہ و سنی تمام ہی مسلمان اپنے اختلافات کو بھول کر زبردست احتجاج کیا۔ مولانا نے کہا کہ امت مسلمہ کو رسول اللہ ؐ نے ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے۔ جسم کے اعضاء کو متحرک اور تندرست رکھنا پڑے گا، ۔ مولانا نے احتجاجی نوجوانوں کو ہاتھ سے اور علماء و ملی دانشوروں کو دماغ سے تعبیر کیا۔ ان دنوں نوجوان بے تاب تھے کہ بڑوں سے کوئی رہنمائی نہیں مل رہی ہے، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ امت کے ان کے درمیان رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔ اتنے حساس ، اہم اور تاریخی موقع پر بھی امت کے تمام دھروں نے آپسی مشاورت کو ضروری نہیں سمجھا، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ مذہبی معاملہ ہے، جس قسم کا اخلاقی سپورٹ قوم کے نوجوانوں کو ملنا چاہیے تھا ، وہ نہیں مل سکا، جس کا امت کے ہر نوجوان کو احساس ہے۔ اس کا یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ بڑے جلسے اور ریالی کی کال دی جائے ۔ مائک پر کوئی پالیسی اور لائحہ عمل طئے نہیں ہوتا۔ کیمرے کے سامنے مستقبل کا منصوبہ نہیں بنایا جاتا ہے۔ ہم برادران وطن کو بتائیں کہ ہماری لڑائی ان کے خلاف نہیں ہے۔ ہم تو صرف گستا خ کے خلاف ہے۔ یہ ہندو مسلم کا معاملہ نہیں یہ انسانیت کے دشمن کا معاملہ ہے۔ مولانا احسن نے تمام ملی تنظیموں سے گزارش کی کہ وہ ایک مشاورتی اجلاس بلائیں۔ اب یہ امت کے ذمہ داروں پر فرض ہے کہ وہ امت کو آئندہ کا لائحہ دیں۔ ورنہ بعد میں تبصرے کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ آج بھی نوجوانوں کو امید ہے کہ بڑے رہنمائی کریں گے لیکن اگر یہ امید بھی ختم ہوجائے تو کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا نے کہا کہ حضورؐ کی زندگی کا ہر پہلو کھلی کتاب کی مانند ہے۔ حضورؐ کی زندگی کا ہر لمحہ آج بھی معلوم اور محفوظ ہے اور ہمیں اس پر کوئی شرمندگی یا احساس کمتری نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن سیرت رسول ؐ کے بعض گوشہ ایسے ہیں، جن کو ان کے صیحح تناظر میں خود سمجھنے اور دیگر برادران وطن کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ برادران وطن کے ذہن سے حضورؐ کے سلسلے میں شکوک و شبہات کو دور کرنا مستقل جنگ ہے۔ اس کیلئے ہر پڑھے لکھے اور الگ الگ زبانوںکو جاننے والوں کو عملی جواب دینے کی ضرورت ہے۔ مولانا نے کہا کہ حضورؐ کے تعلق سے جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، اس کو پہلے ہی مستشریقین نے اپنی کتابوں میں پیش کیا۔ ماضی میں بھی علماء نے کوششیں کی ہیں۔ نوجوانوں نے تو اپنی ذمہ داری اداکی، اب علماء اور دانشوران کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس محاذ کو سنبھالیں۔ ہم یہ منصوبہ بنائیں کہ اگلے پانچ سال کے اندر دکن کے تمام برادران وطن کے شکوک کا جواب دیں گے ۔ برادران وطن کا بڑا طبقہ پڑھا لکھا ہے، وہ حقائق کوسمجھنا چاہتا ہے۔ جو اعتراضات کیے جارہے ہیں ، ان کا علمی جواب دیا جانا چاہیے۔ مستقل طور پر ریسرچ سنٹر بنا کر محققین کی ٹیم کو تیار کرنا ہوگا۔