یکم ؍ اپریل 2020 ء سے گھر گھر مردم شماری کا آغاز متوقع ، آسام کے سوائے تمام ریاستوں میں مقیم افراد کی تفصیلات جمع کرنے کی مہم
نئی دہلی ۔3 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) ملک میں شہریوں کے رجسٹر کی بنیاد رکھنے کے مقصد سے حکومت نے ستمبر 2020 ء تک قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) تیار کرنے کا فیصلہ کی ہے ۔ ایک عہدیدار نے کہاکہ این پی آر ملک کے عام مقیمین و ساکنان کی ایک فہرست ہوگا اس کی تکمیل کے بعد اشاعت عمل میں آئے گی ۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ عمل دراصل ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر ( این آر آئی سی ) کی تیاری کی بنیاد ہوگا جس کو آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر کا ایک ہندوستان بھر میں عمل درآمد کیا جانے والا نمونہ سمجھا جائے گا ۔ این پی آر کے مقصد کیلئے عام ساکن کی تشریح اُس فرد کے بارے میں کی جائے گی جو کسی مقام پر گزشتہ چھ ماہ یا اس سے زائد عرصہ سے مقیم ہے یا پھر ایک ایسا شخص جو اس علاقہ میں آئندہ چھ ماہ یا اس سے زائد عرصہ تک مقیم رہنا چاہتا ہے ۔ شہریوں کے رجسٹریشن کے رجسٹرار جنرل اور کمشنر مردم ویویک جوشی کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 2003ء کے قواعد کے مطابق شہریت ( برائے شہری رجسٹریشن و شناختی کارڈ اجرائی ) کے قاعدہ 3 کے ذیلی قاعدہ 4 پر تعمیل کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے آبادی کا رجسٹر ترمیم و تبدیلی کے ساتھ تیار کرنے کا فیصلہ کی ہے ‘‘ ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’… اور یکم ؍ اپریل 2020 ء تا 30 ستمبر 202 ء بجز آسام ملک بھر میں گھر گھر پہونچکر مردم شماری کی جائیگی اور مقامی رجسٹرار کے دائرہ کار میں شامل علاقوں میں سکونت پذیر افراد کی تفصیلات جمع کی جائیں گی‘‘۔ 1955 ء کے قانونی شہریت کی دفعات اور 2003 ء کے (شہریوں رجسٹریشن و اجرائی شناختی کارڈس) کے قواعد کے تحت این پی آر ملک میں عام طورپر سکونت پذیر ، ساکن یا مقیم افراد کا ملک میں عام طورپر ایک رجسٹر ہوتا ہے ۔ یہ مقامی ( گاڑی ؍ ذیلی ٹاؤن) ذیلی ضلع ، ضلع ، ریاستیں اور قومی سطح پر تیار کیا جاتا ہے ۔ ہندوستان میں رہنے والے ہر عام ساکن کو این پی آر میں اپنا نام اور تفصیلات درج کروانا ضروری ہوتا ہے ۔ این پی آر کا مقصد ملک میں رہنے والے ہر عام ساکن کی شناخت کا جامع خاکہ تیار کرنا ہے جس میں جغرافیائی ، آبادیاتی بائیومیٹرک تفصیلات بھی شامل رہیں گی۔ واضح رہے کہ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی طرف سے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی ترجیحات کے انکشاف کے ایک ماہ بعد یہ قدم اُٹھایا گیا ہے۔ 17 ویں لوک سبھا کی تشکیل کے بعد 20 جون کو صدر رام ناتھ کووند نے اپنے روایتی خطاب میں کہا تھا کہ ’’میری حکومت نے ’دراندازی سے متاثرہ علاقوں میں ‘ ترجیحی بنیاد پر شہریوں کے قومی رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ‘‘ ۔ آسام میں این آر سی کا عمل جاری ہے چنانچہ ملک بھر میں کئے جانے والے عمل میں اس ریاست کو شامل نہیں کیا جائے گا ۔ آسام میں این آر سی کا مسودہ گزشتہ سال جولائی میں شائع کیا گیا تھا جس سے 40.7 لاکھ افراد کے نام حذف کئے جانے پر ایک سنگین تنازعہ پیدا ہوگیا تھا ۔