ملک میں انصاف رسانی کا مطالبہ کرنا بھی سزا کا موجب

   

قابل تعریف سسٹم مذاق میں تبدیل ، سنجیو بھٹ زندہ مثال ، شیویتا بھٹ کا بیان
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : مودی کے بھارت دیش میں انصاف کا مطالبہ کرنا بھی سزا کا سبب بن سکتا ہے ! ان خیالات کا اظہار سابقہ آئی پی ایس عہدیدار سنجیو بھٹ کی اہلیہ شیویتا بھٹ نے کیا ۔ سنجیو بھٹ کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی درخواست کو سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے تین لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا ہے جس پر شیویتا بھٹ نے اپنے خیالات کا سوشیل میڈیا کے ذریعہ اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اقتدار میں انصاف کا حصول مشکل ہوگیا ہے ۔ ایک مثالی اور قابل بھروسہ سسٹم کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا گیا ہے اور قابل تعریف سسٹم کو مذاق بنادیا گیا ہے ۔ جس کی زندہ مثال سنجیو بھٹ ہے ۔ شیویتا بھٹ کا کہنا ہے کہ سازشوں کا شکار فیصلے ہمارے حوصلے کو پست نہیں کرسکتے اور ہماری انصاف کی لڑائی آخری دم تک جاری رہے گی ۔ انہوں نے افسوس اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں ہی اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے لگیں تو پھر انصاف کے لیے کہاں جائیں ۔ بار بار عدالت سے رجوع ہونے پر عدالت نے جرمانہ عائد کیا ہے ۔ شیویتا بھٹ نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلے نے انصاف کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔ ظالموں ، عصمت ریزی کرنے والے غنڈہ عناصر ، شہریوں کو مروانے والوں کو ہلاک کرنے والوں کے لیے انصاف آسان ہوگیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 5 سالوں سے مسلسل مجھ سے یہ سوال کیا جاتا رہا ہے کہ عدلیہ کا موجودہ رویہ سے تم انصاف کی امید کرسکتی ہو میں نے ہمیشہ یہ ہی جواب بڑے پر امید انداز سے کہا کہ حق کی آواز کو مدد ملے گی اور چند افراد ایسے موجود ہیں جو کہیں نہ کہیں ، کبھی نہ کبھی انصاف کریں گے ۔ چند مٹھی بھر افراد آج بھی موجود ہیں لیکن میرے یقین کو اس تازہ فیصلے نے سونچنے پر مجبور کردیا کہ میرے یقین کی کمی نے آج مجھ سے ہی سوال کیا ہے کہ آیا انصاف اور انصاف کے حصول میں بھی شرائط عائد ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 5 سالوں کے عرصہ سے دی گئیں درخواستیں رجسٹرار کے دفتر میں دھول اور گرد کی نظر ہوگئیں ہیں اور چند موقعوں پر اس کا نمبر بھی نہیں کیا گیا ۔ جس کے سبب مسلسل عدالت سے رجوع ہورہے تھے بالاخر عدالت نے درخواست کو قبول کرلیا لیکن دلیل اور موقف کی سماعت کیے بغیر ہی مسترد کرتے ہوئے جرمانہ عائد کیا ۔ شیویتا بھٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں ہی اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے لگیں تو پھر کہاں جائیں ۔۔ ع