ملک میں این آر سی اور شہریت ترمیم بل کی مخالفت کی جائے گی

   

مرکزی حکومت ملک کے سیکولر شیرازہ کو بکھرنے کی کوشش کررہی ہے ، صدر جماعت اسلامی حامد محمد خاں کا بیان
حیدرآباد۔26 نومبر(سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے ملک میں این آر سی اور شہریت ترمیم بل کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے ۔ امیر حلقہ تلنگانہ و اڈیشہ جناب حامد محمد خان نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ہندستان میں این آر سی اور شہریت ترمیم بل کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی ۔ انہو ں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ یہ بات درست ہے کہ تمام ہندستانی شہریوں کو اپنی شناخت کے دستاویزات ساتھ رکھنے چاہئے لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے جس انداز میں شہریت ترمیم بل اور این آر سی کے نفاذ کی بات کی جا رہی ہے اس کی جماعت اسلامی کی جانب سے مخالفت کی جائے گی کیونکہ موجودہ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک کے سیکولر شیرازہ کو بکھیرنے کی بات کی جا رہی ہے جو کہ نا قابل قبول ہے۔ جناب حامد محمد خان نے بتایا کہ ملک میں مذہب کی بنیاد پر شہریت کے معاملہ میں جماعت اسلامی نے واضح موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی تائید یا اس میں تعاون کی کوئی گنجائش نہیں ہے جو ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت ملک کے 135کروڑ عوام کو مشکلات اور مسائل میں مبتلاء کرتے ہوئے سرکاری وسائل کو ضائع کررہی ہے اور آسام میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں این آرسی کے ملک بھر میں نفاذ سے کیا حالات پیدا ہوں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ آسام میں دعوی کیا جارہا تھا کہ ریاست میں 40 لاکھ سے زائد درانداز موجود ہیں لیکن جب قطعی فہرست جاری کی گئی تو ایسے میں 50 فیصد سے زیادہ ہندستانی شہری ثابت ہوئیء ہیں۔جناب حامد محمد خان نے کہا کہ ہندستان میں حکومت ہند کی جانب سے صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے جو کوشش کی جا رہی ہے وہ ناکام ہو گی کیونکہ حکومت غیر ملکی ثابت ہونے والوں کے ساتھ کیا کرے گی اس سلسلہ میں وہ خود لاعلم ہے۔امیر حلقہ تلنگانہ و اڈیشہ نے کہا کہ ہندستانی عوام کو اس طرح کے سیاسی اعلانات سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔انہو ںنے بتیا کہ مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے جس طرح اعلانات کئے جا رہے ہیں کہ شہریت ترمیمی بل کے نفاذ کے ذریعہ افغانستان‘ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ہندو‘ جین‘ سکھ ‘ بدھ اور عیسائیوں کوہندستانی شہریت کی فراہمی کے اعلان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت ہند دستور کی روح کے خلاف کام کر رہی ہے اور ملک کے سیکولر کردار کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔جناب حامد محمد خان نے بتایا کہ جماعت اسلامی اپوزیشن جماعتوں سے پر امید ہیں کہ وہ دونوں متنازعہ فیصلوں کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کی فرقہ واریت کو شکست دینے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس اور سی آرپی ایف کے لاٹھی چارج کی مذمت کی اور کہا کہ جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے والوں کی کوششوں کو بی جے پی حکومت کے مظالم کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔