نئی دہلی: ہندوستان کے بجلی کے شعبے کی واضح طور پر کایا پلٹ ہوئی ہے ، جس کے ذریعہ ہندوستان کے عوام کو قابل اعتماد، سستی اور پائیدار توانائی فراہم کرانے کا مقصد حاصل کیا گیا ہے ۔ یہ بات بجلی کے شعبے میں گزشتہ 9برسوں میں کئے گئے اہم کاموں اور حکومت کی حصولیابیوں کے تعلق سے پریس انفارمیشن بیورو(پی آئی بی)کی ریسرچ یونٹ کی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 9 برسوں کے دوران، بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافے اور بجلی تک رسائی کو وسعت دینے ، قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے اور اختراعی پالیسیوں کے نفاذ میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ۔ پی آئی بی کی ریسرچ کے مطابق ایک سرسبز مستقبل کی طرف ہندوستان کے سفر کو عالمی طور پر تسلیم کیا گیا ہے ۔ پچھلے نو برسوں میں 175 گیگا واٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے اضافے کے ساتھ، ہندوستان بجلی کی کمی والے ملک سے فاضل بجلی والے ملک میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو استعمال کرنے کے ملک کے عزم نے یہ کارنامہ انجام دینے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ شمسی اور ہوا سے حاصل کی جانے والی توانائی کی صلاحیت کی قابل ذکر ترقی نے قابل تجدید توانائی کو اپنانے میں ایک عالمی رہنما کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے ۔ آج، ہندوستان قابل تجدید توانائی کی تنصیب شدہ صلاحیت میں عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر ہے ، اس کی کل تنصیب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 43 فیصدغیر فوسل توانائی کے ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ریسرچ میں بجلی کے شعبے میں قابل قدر پیش رفت کے لئے اہم اسکیموں کے نفاذکا بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔تحقیق کے دوران یہ پایا گیا کہ بجلی کی پیداوار اور سبھی کو بجلی فراہم کرانے کے لیے ہندوستان کے عزم نے اس کی کایا پلٹ کے واسطے ایک محرک قوت کا کام کیا ہے ۔