چند منٹوں کے بعد ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی، وقفہ صفر اور سوالات بھی متاثر
نئی دہلی۔ مہنگائی سمیت بعض مسائل پرکانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے زبردست ہنگامہ آرائی کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی چہارشنبہ کو ایک بار ملتوی کرنے کے بعد پورے دن کے لئے ملتوی کردی گئی۔ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان بالا میں آج بھی وقفہ صفر اور وقفہ سوالات نہ ہوسکا۔ مجموعی طور پر آج ایوان بالا کی کارروائی 15 منٹ تک بھی ٹھیک سے نہیں چل سکی۔ایک بارکے التوا کے بعد جب دوپہر دو بجے ایوان نے دوبارہ کام شروع کیا تو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے مہنگائی اورکچھ ضروری اشیاء پرحال ہی میں لگائے گئے گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے مسئلہ پر ہنگامہ کیا۔ اپوزیشن ارکان اس معاملے پر فوری بحث کا مطالبہ کر رہے تھے۔ہنگامہ آرائی کے درمیان ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کے ڈیلیوری سسٹم بل پر بحث شروع کرنے کی کوشش کی اور اس کے تحت انہوں نے کانگریس کے شکتی سنگھ گوہل کا نام لیا لیکن اسی دوران کچھ اپوزیشن ارکان نشست کے قریب آگئے اور ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی شروع کردی۔گوہل چونکہ ہنگامہ کرنے والے اراکین کے ساتھ تھے، اس لیے ڈپٹی چیئرمین نے دراوڑ منیتراکزگم کے رکن پی ولسن کا نام بحث میں حصہ لینے کے لیے طلب کیا۔ ولسن نے کہا کہ وہ بل پر بات کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے ایوان میں حکم نامہ بحال ہونا چاہیے۔ہری ونش نے احتجاج کرنے والے ارکان پر زوردیا کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس آجائیں اور بحث میں حصہ لیں، لیکن اپوزیشن ارکان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ بل بین الاقوامی عزم کے مطابق لایا گیا ہے اور یہ قومی مفاد میں ہے۔اس کے باوجود ارکان کا ہنگامہ جاری رہا اور انہوں نے دوپہر 2 بجکر 4 منٹ پر ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی۔قبل ازیں ایوان کی کارروائی شروع ہونے کی صبح نامزد رکن اور نامور سابق کھلاڑی پی ٹی اوشا نے راجیہ سبھا کی رکنیت کا حلف لیا۔ اس کے بعد چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے۔اس دوران اپوزیشن ارکان نے اپنے مسائل اٹھانے پر ہنگامہ شروع کردیا۔ چیئرمین نے اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا۔ کھرگے نے کہا کہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف خواتین ہی نہیں، بچوں سے لے کر بوڑھے تک، ملک کے 140 کروڑ لوگ اس سے متاثر ہے۔