ملک میں جامع کیمیاوی کھاد کے بندوبست کیلئے منفرد اقدا مات کئے گئے : تومر

   

Ferty9 Clinic

کیمیاوی کھادوں کے استعمال کے بڑھتے ہوئے مسائل سے بھی نمٹا جارہا ہے: وزیر زراعت
نئی دہلی: ہمہ گیر زراعت اس امر کویقینی بنانے کے لئے لازمی ہے کہ ہندوستان اپنے 3.4 بلین افراد کے لئے قومی سلامتی کا ہدف حاصل کرسکے ۔ وزیراعظم کی رہنمائی میں کیمیاوی اشیائاور کیمیاوی کھادوں کی وزارت نے عدم توازن کے شکار کیمیاوی کھادوں کے استعمال کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لئے منفرد اقدامات کئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے یہاں جاری ایک بیان میں کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ہندوستانی زرعی ڈھانچے کی شکل کو مختلف النوع پالیسی دخل اندازیوں کی شکل میں کی جانے والی کوششوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرکے ، سرمایہ کاری کا راستہ ہموار کر کے ،مالی امداد فراہم کر کے ، ٹیکنالوجی دخل اندازی اور قدرو قیمت میں اضافے کے ذریعہ ہندوستانی زراعت کو تغیر سے ہمکنار اور توسیع کرنا ہے ۔ اس سے ہمہ گیر زراعت اور 120 ملین سے زائد کاشتکاروں کی فلاح وبہبود کے سلسلے میں حکومت کی مضبوط عہد بندگی کا اظہار ہوتا ہے ، یہ وہی کاشتکار ہیں، جو 141 بلین ہیکٹر کے بقدر کاشتکاری کی زمینوں کے مالکان ہیں۔ یہ توسیع 23-2022 سے لے کر 25-2024 کے مالی برسوں پر احاطہ کرتی ہے ، چونکہ مودی حکومت کی جانب سے اندرون ملک پیدا وار پر بہت زور دیا جارہا ہے ، لہٰذا ملک نے اپنی یوریا پیداوار کی صلاحیت ، جو 15-2014 میں 207.54 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) کے بقدر تھی، وہ بڑھا کر 23-2022 میں 283.74 ایل ایم ٹی کے بقدر تک پہنچا دی ہے ۔ یوریا کی سبسڈی کی توسیع کے ساتھ یہ افزوں پیدا وار کی سمت کو یقینی بنائے گی، کہ پورے ملک میں کاشتکاروں کو قابل استطاعت قیمتوں پر یوریا تک رسائی حاصل ہوسکے ۔ انھوں نے بتایا کہ دنیا میں پہلی مرتبہ اندرون ملک نینو یوریا رقیق تیار کیا ہے اور اسے ہندوستانی کاشتکاروں کو بااختیار بنانے کے لئے کاروباری پیمانے پر تیار کیا ہے ۔ یہ ایک اختراعی اور کفایت شعاری پر مبنی مصنوعات ہے ، مارچ 2023 تک 76.5 ملین بوتل (33.6 ایل ایم ٹی کے مساوری رویاتی یوریا) کی تیاری عمل میں آچکی ہے اور 54.2 بلین بوتل فروخت ہوچکی ہیں۔ 26-2025تک، 195 ایل ایم ٹی کے بقدر روایتی یوریا کے مساوی 440 بلین بوتلوں والے پلانٹوں کی صلاحیت مصروف عمل ہو جائے گی۔ کاشتکاروں کو رویتی ڈی اے پی کیلئے لاگت کے لحاظ سے ازحد موثر متبادل نینو ڈی اے پی فراہم کرائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آتم نر بھر بھارت کے زیر اہتمام، حکومت نے کوٹہ میں چمل فرٹیلائزرس لمیٹڈ اور دیگر چھ مقامات پر پیدا وار یونٹس قائم کی ہیں۔
اندرون ملک پیداوار کرنے والی یہ اکائیاں اور نینو یوریا پلانٹ ، یوریا پر موجودہ در آمداتی انحصار کو کم کریں گی اور آخر کار 26-2025 تک یوریا کے معاملے میں ہمیں آتم نر بھر (خود کفیل) بنادیں گیں۔
منڈی ترقیات امداد ( ایم ڈی اے ) عنصر کے تحت حکومت منفرد کثیر رخی، فضلے سے دولت بہم پہنچانے کے نظریہ یعنی گوبردھن پہل قدمی سے وابستہ نامیاتی کیمیاوی کھادوں کی تیاری کے پلانٹوں کو ایک ہزار 500 روپے فی میٹرک ٹن کی شرح سے امداد فراہم کرے گی۔ اس مجموعی اورمربوط طریقہ کار میں مختلف النوع بائیو گیس اور قابل احیائتوانائی اسکیموں، فضلہ انتظام کے پروگراموں اور صفائی ستھرائی سے متعلق پہل قدمیوں کا عنصر بھی شامل ہے ۔
وزیر موصوف نے کہا کہ 24-2023 کے مالی سال سے لے کر 26-2025 کے مالی سال تک 1451.84 کروڑ روپے مجموعی تخمینہ اخراجات سے فراہم کی جانے والی سرمایہ امداد میں 360 کروڑ روپے کے بقدر کی تحقیق فصل فنڈنگ بھی شامل ہے ۔ اس کے توسط سے بھارت میں نامیاتی کیمیاوی کھادوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ (نامیاتی کیمیاوی کھادوں سمیت) زراعت سے متعلق ضروری سازو سامان اور خدمات اور کاشتکاروں کو ایک ہی مقام پر تمام مسائل کا حل بہم پہنچانے اور انہیں با اختیار بنانے کے لئے تقریبا ایک لاکھ کے بقدر منفردنمونہ فارم ان پ[؟][؟]ٹ اور خدمات فراہم کرنے و الی دکانیں یعنی پردھان منتری کسان سمردھی کیندر ملک گیر پیمانے پر قائم کئے گئے ہیں۔