کانگریس جھوٹی اور بی جے پی فاشسٹ پارٹی ، اقلیتوں کیلئے سب سے زیادہ بجٹ کا تلنگانہ کو اعزاز ،کے سی آر مسلمانوں کو تعلیمی طورپر بااختیار بنانے میں کامیاب ، حیدرآباد میں امن و امان ہمارا کارنامہ: کے ٹی آر کا انٹرویو
2024 کے عام انتخابات میں مودی اور بی جے پی کی شکست یقینی ، سیکولر حکومت میں 12 فیصد مسلم تحفظات کی منظوری ہوگی
حیدرآباد ۔ 26 اکٹوبر ۔(محمد ریاض احمد ) ہندوستان میں تلنگانہ وہ واحد ریاست ہے جہاں اقلیتیں بالکل محفوظ ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں یہاں ہندو مسلم سکھ عیسائی بدھ جین غرض تمام مذاہب کے ماننے والے مل جل کر رہتے ہیں ۔ بی آر ایس حکومت نے گنگاجمنی تہذیب ، امن و امان کی برقراری ، بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل عوام کی ترقی و خوشحالی ، فاشسٹ طاقتوں کی سرکوبی اور تمام شعبوں میں ریاست کی ترقی کو اپنے ایجنڈہ کی اولین ترجیحات میں شامل رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست تلنگانہ سارے ملک میں گنگا جمنی تہذیب کی مثال بن کر اُبھری ہے ۔ ریاست تلنگانہ ملک کی نوجوان ریاست ہے اس کے باوجود اقلیتوں ، کسانوں ، غریبوں اور خواتین کو بااختیار بنانے اور زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ فی کس اوسط آمدنی کے معاملہ میں ملک کی نمبرون ریاست بن گئی ہے ۔ اب جبکہ ریاست میں آئندہ ماہ اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ پچھلے دو اسمبلی انتخابات کی طرح بی آر ایس کو ہی شاندار کامیابی ملے گی اور تیسری مرتبہ کے سی آر ہی عہدہ چیف منسٹری پر فائز ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار کے سی آر کے فرزند اور بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ مسٹر کلوا کنٹلا تارکا راما راؤ (کے ٹی آر ) نے کیا ۔ 47 سالہ کے ٹی آر کو جو بی آر ایس کے انتہائی متحرک لیڈر سمجھے جاتے ہیں ریاست میں بیرونی سرمایہ کاری ، صنعت کاروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو حیدرآباد لانے کا کریڈٹ حاصل ہے ۔ روزنامہ سیاست اور سیاست ٹی وی کو دیئے گئے اپنے 40 منٹ کے انٹرویو میں کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں بی آر ایس کی ہیٹ ٹرک ہوگی ۔ تیسری مرتبہ بھی کے سی آر ہی چیف منسٹر بنیں گے ۔ کانگریس کو 10-12 اسمبلی نشستوں پر کامیابی ہوگی جبکہ بی جے پی ایک دو تین نشستوں تک ہی محدود رہے گی ۔ اس سوال پر کہ فی الوقت کرکٹ ورلڈ کپ چل رہا ہے ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال کو کرکٹ کی اصطلاح میں وہ کیسے سمجھائیں گے ؟ کے ٹی آر نے جواب دیا کہ کے سی آر ہمارے کپتان ہے اور کپ بی آر ایس ہی لے جائے گی یعنی کے سی آر کی قیادت میں بی آر ایس ہی ریاست میں شاندار کامیابی حاصل کرے گی ۔ ایک اور سوال کے جواب میں کے ٹی آر کا کہنا تھا کہ فرقہ پرستوں سے ہم نے ہمیشہ فاصلہ بنائے رکھا اس لئے جو لوگ ہمیں بی جے پی کی بی ٹیم کہتے ہیں اُنھیں خود اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور جہاں تک بی آر ایس کی کار کا اسٹیرنگ اسداویسی کے ہاتھوں میں ہونے کا سوال ہے کار اور اسٹیرنگ بھی ہمارے کنٹرول میں ہے ۔ ایک اور استفسار کے جواب میں کے ٹی آر کا کہنا تھا کہ کے سی آرملک کے واحد سیکولر لیڈر ہیں جنھوں نے کبھی بھی کسی کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا ۔ تعصب و جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ سب کیلئے ترقی کے مساوی مواقع فراہم کئے ۔ کے ٹی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ فرقہ پرست جماعتیں اور تنظیمیں کے سی آر اور بی آر ایس پر اقلیتوں کی خوشامدی کا الزام عائد کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم غریبوں کو خوش کرنے اُن کی ترقی کو یقینی بنانے کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں ۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ سب مل جل کر رہیں کیونکہ یہ ملک کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کا نہیں بلکہ سب کا ہے ۔ مسلمانوں کی بہبود و ترقی سے متعلق ایک سوال پر کے ٹی آر نے جو ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق ، آئی ٹی اور صنعتیں بھی ہیں دعویٰ کیا کہ بی آر ایس نے ریاست کے مسلمانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لائی ہیں ۔ کانگریس نے مسلمانوں کو صرف ووٹ بنک سمجھ رکھا تھا ۔ مسلمانوں کے تئیں کے سی آر کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد ہماری حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے 10 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے یعنی ہر سال 1000 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جبکہ کانگریس کے دور حکومت میں ہر سال 300 کروڑ روپئے خرچ کئے جاتے تھے ۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں گنگا جمنی تہذیب و روایات کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ جہاں رمضان اور بتکماں کو ریاستی عید و تہوار کے طورپر منایا جاتا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملک میں فرقہ پرستوںکا مقابلہ صرف اور صرف کے سی آر ہی کرسکتے ہیں ۔ اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں ایک سوال پر کے ٹی آر نے بتایا کہ کے سی آر حکومت نے جہاں غریب ہندو لڑکیوں کی شادی کیلئے کلیان لکشمی اسکیم شروع کی وہیں غریب مسلم لڑکیوں کی شادیوں کیلئے شادی مبارک اسکیم کو سارے ملک میں ایک مثالی اسکیم بنادیا ۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت غریب مسلم لڑکی کو ایک لاکھ سولہ ہزار روپئے دیئے جاتے ہیں اور اب تک اس اسکیم سے 2,68,230 خاندانوں نے استفادہ کیا جس پر 2258 کروڑ روپئے کے مصارف آئے ۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کو تعلیمی شعبہ میں جس طرح بااختیار بنایا ہے اس کی مثال سارے ملک میں نہیں ملتی ۔ مثال کے طورپر تشکیل تلنگانہ سے قبل متحدہ آندھراپردیش میں اقلیتی اقامتی اسکولوں کی تعداد صرف 12 تھی جن میں 5760 طلبہ زیرتعلیم تھے لیکن کے سی آر حکومت نے ان اسکولوں کی تعداد بڑھاکر 12 سے 204 کردی جہاں غریب مسلم خاندانوں کے 9700 سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ 12 اقامتی اسکولس کو اپ گریڈ کرکے اقلیتی اقامتی جونیر کالجس میں تبدیل کیا گیا اور ان کالجوں میں 32640 طلبا و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ ان اسکولوں اور کالجوں میں ایک طالب علم پر 1.25لاکھ روپئے خرچ کئے جاتے ہیں نتیجہ میں ایسے بے شمار طلبا و طالبات ہیں جنھیں میڈیسن ، انجینئرنگ اور دوسرے پیشہ وارانہ کورسس میں داخلے حاصل ہوئے ہیں۔ ریاست میں اقلیتی طلباء کو بااختیار بنانے والی دوسری اسکیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کے ٹی آر نے چیف منسٹرس اورسیز اسکالرشپ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس اسکیم کے ذریعہ اقلیتی طلبہ بیرونی ممالک کی باوقار یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ ان طلباء کو حکومت تلنگانہ کی جانب سے 20 لاکھ روپئے دیئے جاتے ہیں ۔ اب تک اس مقصد سے 500 کروڑ روپئے خرچ کئے جاچکے ہیں اور ہر سال حکومت اس اسکالرشپ اسکیم کیلئے 300 کروڑ روپئے مختص کئے جارہی ہے ۔ یہ کہتے ہوئے کہ سارے ملک میں چیف منسٹر اوورسیز اسکالرشپ اسکیم سوائے تلنگانہ کے کہیں اور نہیں ہے کے ٹی آر نے کہاکہ تاحال زائد از 3200 اقلیتی طلبہ اس سے استفادہ کرچکے ہیں ۔ اس اسکیم سے فرقہ پرستوں کے سینوں پر سانپ لوٹتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بی آر ایس یو پی ایس سی میں مسلمانوں کا تناسب بڑھانے کی خواہاں ہے جس کے لئے ہر سال 100 اقلیتی طلباء کو یو پی ایس سی کی مفت کوچنگ دی جارہی ہے ۔ ایک استفسار پر کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں تلنگانہ واحد ریاست ہے جہاں اقلیتی طلبہ کی تعلیمی ترقی پر سالانہ 700کروڑ روپئے خرچ کئے جاتے ہیں ۔ بی آر ایس حکومت نے حج ہاؤس کیلئے 22کروڑ روپئے مختص کئے جی او 58 اور 59 کے تحت اقلیتوں کے پٹوں کو باقاعدہ بھی بنایا جارہا ہے۔ کے ٹی آر نے مزید بتایا کہ کے سی آر نے کبھی مذہب کے نام پر حکومت نہیں کی بلکہ انسانیت کو اولین ترجیح دی چنانچہ پجاریوں کی طرح ریاست کے 10 ہزار آئمہ و موذنین کو ماہانہ 5 ہزار روپئے اعزازیہ دیا جارہاہے ۔ اب آئندہ سال سے 17 ہزار آئمہ و موذنین کو اعزازیہ دیا جائے گا ۔ ریاست میں لا اینڈ آرڈ امن و ضبط کی برقراری کے بارے میں سینٹ جارج گرامر اسکول حیدرآباد اور نظام کالج کے فارغ تحصیل کے ٹی آر نے کہاکہ سارے ملک میں فرقہ پرستی کا زہر گھول دیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کے مکانات پر خاص طورپر بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں بلڈوزر چلائے جارہے ہیں ۔ لباس ، کھانے ، پینے ، پڑھنے لکھنے کے نام پر مسلمانوں اور عیسائیوں کی زندگیاں اجیرن کرکے رکھ دی گئی ہیں لیکن ریاست تلنگانہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول پایا جاتا ہے ۔ حکومت نے فرقہ پرستوں کو سر اُٹھانے نہیں دیا ۔ لا اینڈ آرڈر کو پوری طرح اپنے کنٹرول میں رکھا ہے ۔ گزشتہ 9-10 برسوں سے فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے جبکہ کانگریس کے دور میں وقفہ وقفہ سے فسادات ہوا کرتے تھے ۔ بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں اور تلنگانہ میں کے سی آر حکومت غریب مسلمانوں کو ڈبل بیڈروم مکانات الاٹ کررہی ہے ۔ ریاست میں ہر کسی کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری پوری آزادی ہے ۔ ایک مرحلہ پر انھوں نے کے سی آر کو ہندوستان میں اقلیتوں کا حقیقی مسیحا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتی بجٹ کے معاملہ میں ملک کی کوئی بھی ریاست تلنگانہ اور بی آر ایس حکومت کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ اس ضمن میں انھوں نے کرناٹک ، مہاراشٹرا ، مغربی بنگال اور اُترپردیش کی مثالیں پیش کی جہاں مسلمانوں کی آبادی بالترتیب 90 لاکھ (اقلیتی بجٹ 2000 کروڑ روپئے ) ، 1.4 کروڑ ( اقلیتی بجٹ 674 کروڑ روپئے ) ، اقلیتی آبادی 2.5 کروڑ (اقلیتی بجٹ 2100 کروڑ روپئے ) اور 4 کروڑ مسلم آبادی کیلئے 1782 کروڑ روپئے (اترپردیش میں ) مختص کئے گئے ہیں جبکہ تلنگانہ میں 50 لاکھ مسلم آبادی کیلئے بی آر ایس نے 2200 کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا ہے جس سے ریاست کے مسلمانوں کے چہروں پر مسکراہٹ پائی جاتی ہے۔ انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کی تاریخ کا انتہائی نااہل ، غیرموثر ،نامعقول اور ناکام وزیراعظم قرار دیا اور کہاکہ بی جے پی حکومت میں لوگوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کیا جارہاہے ، فاشسٹ طاقتوں کو عروج حاصل ہوا ہے خود وہ دو بچوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے باپ ہیں انھیں اُن کے مستقبل کی فکر ہے اسی طرح جس طرح آج ہندوستان کا مسلمان اپنے بچوں کی فکر کررہاہے جس طرح ایک محب وطن ہندوستانی کو اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے ۔ انھوں نے دوران انٹرویو مرزا غالبؔ کے بارے میں بھی اظہارِ خیال کیا اور تلنگانہ کے انقلابی شاعر مخدوم محی الدین کا یہ شعر ؎
حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
سناتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ میں تلگو کے ساتھ زبانِ اُردو کے فروغ میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ کے سی آر کبھی شادی مبارک اسکیم کے ذریعہ غریب لڑکیوں کے ماموں کا کردار نبھارہے ہیں تو وظیفہ پیرانہ سالی کے ذریعہ بوڑھے بڑوں کا سہارا بنے ہوئے ہیں تو معذورین ، بیواؤں کو وظائف جاری کرتے ہوئے ان کے باپ اُن کے سرپرست کا کردار ادا کررہے ہیں ۔ ایسے میں عوام خاص طورپر مسلمانوں کو بہت سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔