ملک میں ’ لوجہاد ‘ کے پروپگنڈہ کی ناکامی کے بعد ’ بھگوا لو ٹریپ ‘ کا آغاز

   

ویڈیو کلپس ، ریل ، میمس اور ویڈیوز کی تیاری ، مسلم لڑکیوں کی ذہن سازی کرنے کی سازش
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔7۔جون۔ملک میں ’لو جہاد‘ کے پروپگنڈہ میں ناکامی اور متعدد کوششوں کے باوجود اس طرح کے معاملات کو ثابت نہ کرپانے کے بعد اب ’ہندوتوا‘ قوتوں نے منظم سازش کے تحت ’’بھگوالو ٹریپ‘ ‘ کا آغاز کردیا ہے اور اس مہم کے ذریعہ اس تاثر کو عام کیا جا رہاہے کہ ہندو نوجوان اگر مسلم لڑکی سے شادی کرتا ہے تو اسے خوشحال رکھنے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں رکھتا بلکہ مسلم لڑکیاں ہندو نوجوانوں کے دام محبت میں گرفتار ہونے کے بعد خود کو محفوظ تصور کر رہی ہیں۔ہندستان میں ’لوجہاد ‘ کے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکامی کی خفت مٹانے کے لئے اب جو مہم شروع کی گئی ہے اس سے متنبہ کرنے کے لئے ’بھگوا لو ٹریپ‘ کی حقیقت کو آشکار کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ہندو تو تنظیموں کی جانب سے ایسی ویڈیو کلپس‘ ریل‘ میمس ‘ اور ویڈیوز بنائی جانے لگی ہیں جو مسلم لڑکیوں کو ہندو لڑکوں کے ساتھ نہ صرف دکھا یا جا رہاہے بلکہ ان کی خوشحال زندگی کو پیش کیا جا رہاہے ۔ سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیوز بنانے والے اداکار جنہیں یوٹیوبرس کہا جا تا ہے وہ ان ویڈیوز کی تیاری کے ذریعہ انہیں فروغ دے رہے ہیں اور اس کے ذریعہ نہ صرف کروڑہا روپئے کی آمدنی حاصل کی جار ہی ہے بلکہ ان ویڈیوز کے ذریعہ نوجوان مسلم لڑکیوں کی ذہن سازی کی کوشش کے علاوہ انہیں مذہبی رجحان سے بے پرواہ بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ملک میں صرف ہندو
یوٹیوبرس ہیں بلکہ کئی شہریو ںمیں ایسے کئی مسلم یوٹیوبرس موجود ہیں جو کہ اپنی مزاحیہ اور دیگر ویڈیوز کے ذریعہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں لیکن وہ اس طرح کی ذہن سازی پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے دانستہ یا نادانستہ طور پر تخریب کاری کا سبب بن رہے ہیں۔ مسلم ادارے‘ تنظیمیں اور قائدین اگر ’بھگوالوٹریپ‘ کے ویڈیوز کا جواب دینے میں ناکام ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ہندستانی مسلمانوں کو آئندہ نسلی بگاڑ سے محفوظ رکھنا بے انتہاء مشکل ہوجائے گا ۔ ہندوتوا تنظیمیں جو کھل کراب یہ کہہ رہی ہیں کہ ’لوجہاد‘ کے جواب میں انہوں نے مسلم لڑکیوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے تو اس پر بیشترگوشوں نے اسے نفرت انگیز بیان کے طور پر دیکھا اور ان بیانات کو نفرت پر مبنی بیانات قرار دیتے ہوئے برہمی کا اظہارکیا گیا اور اس طرح کے عناصر پر قابو پانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی گئی لیکن اب یہ عناصر نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا بھر میں ہندو۔مسلم رواداری کے نام پر مسلم لڑکیوں کی ہندو لڑکوں سے شادی کو عام کرنے کی کوشش کے تحت ایسی ویڈیوز بنا رہے ہیں جن میں ہندو لڑکی سے شادی کرنے والی مسلم لڑکیوں کی زندگیوں کو خوشحال ‘ خوش و خرم دکھایا جا رہاہے حالانکہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے اور نہ ہی بین مذہبی شادیوں میں وہ سکون ہوتا ہے جو دکھا یا جا رہا ہے۔ تحقیق پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ نام نہاد‘ خود ساختہ یوٹیوبرس اور یوٹیوب چیانلس جن پر شہرمیں پیش آنے والے واقعات پیش کئے جاتے ہیں انہیں بھی ’ہندوتوا‘تنظیموں کی جانب سے نا دانستہ طور پر استعمال کیا جا رہاہے اور انہیں مسلم شادی شدہ جوڑوں کے عائلی مسائل اور شوہروں کے مظالم کے خلاف پولیس اسٹیشن سے رجوع ہونے والی خواتین کی آواز کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان کے ویڈیوز کو خوب رسائی دلواتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ عائلی مسائل تمام مذاہب کے ماننے والوں میں پائے جاتے ہیں اور شوہر اور بیوی کے جھگڑے بیشتر تمام مذاہب اور طبقات کے ماننے والوں میں ہوا کرتے ہیں لیکن اگر شہر حیدرآباداور نواحی علاقوں کے پولیس اسٹیشنوں سے رجوع ہونے والے معاملات جو سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک کے ذریعہ دنیا بھر میں پہنچتے ہیں ان کا مشاہدہ کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صرف مسلم شوہر ظالم ہیں اور عائلی جھگڑے صرف مسلمانوں میں ہوا کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔’بھگوا لو ٹریپ‘ کی حقیقت سے اب انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہی اسی لئے وقت ہے کہ مسلم اکابرین ‘ علماء ‘ مشائخین کے علاوہ مذہبی و سماجی تنظیموں کے ذمہ دار فوری طور پر آگے آتے ہوئے اس بھگوا لو ٹریپ کے معاملات کی روک تھام کے لئے منظم حکمت عملی طئے کرتے ہوئے مسلم معاشرہ میں نسلی بگاڑ کو پیدا ہونے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ نفرت انگیز بیانات میں مسلمانوں کو الجھاتے ہوئے اب ان کے گھروں کی عزت پر منظم حملہ کیا جانے لگا ہے اور اس حملہ سے محفوظ رہنے کے لئے لازمی ہے کہ مسلمان بھی اسی درجہ کی منصوبہ بندی کو یقینی بنائیں جوہند توا قوتوں کی جانب سے اختیار کی گئی ہے ۔