سرویس سیکٹر اور صنعتیں متاثر ، ریزرو بینک آف انڈیا کے سروے میں انکشاف
حیدرآباد۔6اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک کی نصف سے زائد آبادی کا یہ احساس ہے کہ ملک میں ملازمتوں کی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے اور شہریوں کی قوت خرچ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے 52فیصد عوام کا یہ تاثر ہے کہ ملازمتوں کی حالت انتہائی ابتر ہے جس کے نتیجہ میں ملازمین کی قوت خرچ کی صلاحیت میں بھی کمی رونما ہورہی ہے۔ ماہ ستمبر کے دوران یہ صورتحال ریکارڈ کی گئی جو کہ گذشتہ 6برسوں کے دوران سب سے ابتر صورتحال قرار دی جا رہی ہے اورکہا جا رہاہے کہ ان حالات کی بنیادی وجہ سرویس سیکٹر اور صنعتوں کو درپیش مسائل ہیں۔ ہندستانی شہروں میں کئے گئے سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں عوام کی قوت خرید اور خرچ پر منفی اثرات ریکارڈ کئے جا رہے ہیں اور ان حالات کی وجہ معیشت میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ اور تجارتی مندی کے علاوہ مہنگائی ہے۔ ہندستان میں اب تک یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ملازمت پیشہ افراد پر تجارتی مندی اور معاشی بحران کے اثرات نہیں نظر آرہے ہیں جبکہ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ملازمین پر بھی ملک کے معاشی بحران کے اثرات پائے جانے لگے ہیں کیونکہ مہنگائی میں ہونے والے اضافہ کے علاوہ اخراجات میں اضافہ کے سبب ان پر بھی ان مندی کے اثرات پائے جانے لگے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران یہ صورتحال برقرار رہے گی اگر حکومت کی جانب سے معیشت پر قابو پانے کے فوری طور پر کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو اس کے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ ملازمین کے ساتھ ساتھ ملازمتوں پر بھی اس کے منفی اثرات ریکارڈ کئے جا رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ معاشی انحطاط کے سبب ملازمتوں کی عدم فراہمی ہے اور کمپنیو ںکی جانب سے ملازمتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں کئے جانے والے احتیاط کے سبب بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔