ماہرین طب کی پیش قیاسی پر خدشات میں اضافہ ، بچوں کی صحت اور آکسیجن کا انتظام کرنے پر زور
حیدرآباد۔ مرکزی حکومت کورونا وائرس کی تیسری لہر سے نمٹنے کی تیاری کرے اور ملک بھر میں ڈاکٹرس کے تقرر کے علاوہ آکسیجن کا ذخیرہ اور تیاری کے اقدامات کے علاوہ ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے۔ جسٹس چندرچوڑ نے سپریم کورٹ میں کورونا وائرس کی صورتحال پر جاری مقدمہ کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ملک کی تمام ریاستوں میں آکسیجن کی فراہمی کے سلسلہ میں منصوبہ تیار کرے اور اب جبکہ ماہرین کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ جلد ہی کورونا وائرس کی تیسری لہر آئے گی تو ایسی صورت میں اس سے نمٹنے کے لئے تیاریاں مکمل کرے۔ سپریم کورٹ نے ملک کی تمام ریاستوں میں سرکاری دواخانو ںمیں ڈاکٹرس کے تقررات کے ساتھ ملک بھر میں آکسیجن کی فراہمی کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات کرنے اور ذخیرہ کے علاوہ آکسیجن کی تیاری کو بہتر بنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ادویات کی کوئی قلت پیدا نہ ہو اس کے لئے حکومت ادویات سازی پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ جسٹس چندر چوڑ نے مقدمہ کی سماعت کے دوران کہا کہ کورونا وائرس پر تحقیق کرنے والے ماہرین اب یہ کہہ رہے ہیں ملک میں تیسری لہر کے خدشات میں اضافہ ہوچکا ہے اور جلدہی وائرس کی تیسری لہر ٹکرائے گی۔ انہوں نے ماہرین کے حوالہ سے کہا کہ جب ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ تیسری لہر کے دوران ملک بھر میں بچے متاثر ہونے کا خدشہ ہے تو ان کے لئے ادویات کی تیاری اور ذخیرہ کے علاوہ بچوں کے آکسیجن کا بھی انتظام کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے ملک بھر میں طلب کے مطابق آکسیجن کی فراہمی کے اقدامات کے لئے خصوصی توجہ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت موجودہ حالات سے تجربہ حاصل کرتے ہوئے آئندہ کے حالات کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ملک کی تمام ریاستوں کو فراہم کی جانے والی آکسیجن اور تمام ریاستوں میں موجود آکسیجن کی تیاری کی گنجائش کے علاوہ ریاستوں کو درکار آکسیجن کی تفصیلات فراہم کریں ۔