ماضی میں احترام کی مثالیں ، مرکز میں بی جے پی اقتدار کے بعد گورنر کا عہدہ پامال
حیدرآباد۔8۔ستمبر۔(سیاست نیوز) ملک میں گورنر کے عہدہ کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی جار ہی ہے! ریاستی سطح پر گورنر کا عہدہ دستوری ہوتا ہے اور اب تک گورنر کے عہدہ کے احترام کی کئی مثالیں دیکھی جاتی رہی ہیں لیکن مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں گورنر کی عہدہ پر فائز افراد پر الزامات اور کے خلاف احتجاج کے علاوہ منتخبہ حکومتوں کی جانب سے ان کو اہمیت نہ دیئے جانے کے معاملات سے ملک بھر کی کئی ریاستوں میں گورنرکا دستوری عہدہ پامال ہونے لگا ہے۔ مغربی بنگال‘ مہاراشٹرا کے علاوہ کیرالہ میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں اور دہلی میں لیفٹنینٹ گورنر اور حکومت کے درمیان جاری رسہ کشی کی بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ گورنر تلنگانہ ڈاکٹر تمیلی سائی سوندراراجن ریاستی حکومت پر یوم جمہوریہ کے موقع پر پرچم کشائی سے روکنے کے علاوہ انہیں پروٹوکول فراہم نہ کرنے اور عہدیداروں کی جانب سے انہیں نظر انداز کرنے کی شکایت برسرعام شروع کردی ہیں اور تلنگانہ میں بہ حیثیت گورنر ان کے 3سال کی تکمیل پر انہوں نے حکومت پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے ‘ اسی طرح دہلی میں لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ کی جانب سے حکومت دہلی کو روانہ کئے گئے مکتوب کی نقولات کو رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا عام آدمی پارٹی سنجے سنگھ نے پریس کانفرنس کے دوران لیفٹیننٹ گورنر کے مکتوب کو پھاڑتے ہوئے دستوری عہدہ کو نیچا دکھانے کی کوشش کی اور اس عہدہ کے سیاسی استعمال کا استعمال کیا ۔مہاراشٹرا میں گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے دیویندر فڈنویس کو علی الصبح چیف منسٹر کے عہدہ کا حلف دلاتے ہوئے دستوری عہدہ پر تنقیدوں کے دروازے کھول دیئے تھے ۔ اسی طرح مغربی بنگال میں گورنر کی جانب سے مسلسل حکومت کے معاملات میں مداخلت کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے کئی اہم فیصلہ کئے جس میں ریاستی جامعات کے چانسلر کے عہدہ پر جہاں گورنر بہ اعتبار عہدہ چانسلر ہوتے ہیں انہیں برخواست کرتے ہوئے تمام ریاستی جامعات میں چیف منسٹر کو بہ اعتبار عہدہ چانسلر بنانے کا کابینہ میں فیصلہ کرتے ہوئے گورنر کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی ۔ مغربی بنگال میں یونیورسٹی طلبہ نے گورنر کے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور گورنر کے عہدہ کو پامال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف احتجاج کیا ۔ریاست کیرالہ میں بھی گورنر کی جانب سے حکومت کے کام کاج میں مداخلت کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔م