ملک میںتبدیلی کی ضرورت ‘ ڈیجیٹل انڈیا و میک ان انڈیا کا نعرہ مذاق بن گیا

   

گلی نکڑ پر چائنا بازار کھل گئے ۔ مہاراشٹرا کے ضلع پریشد انتخابات میں بی آر ایس مقابلہ کرے گی۔ اورنگ آباد میں کے سی آر کا خطاب

حیدرآباد ۔ 24 اپریل ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے قومی سربراہ و چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا ، میک ان انڈیا کا نعرہ مذاق کا موضوع بن گیا ہے ۔ ہر گلی اور نکڑ پر چائنا بازار عام ہوگئے ہیں ۔ مہاراشٹرا کے اورنگ آباد میں بی آر ایس کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کے سی آر نے کہا کہ آزادی کے 70 سال بعد بھی مہاراشٹرا پانی کی قلت کا شکار ہے جبکہ مہاراشٹرا سے اہم دریائیں گزرتی ہیں پھر بھی عوام کو پینے کے پانی کی قلت ہے اور زرعی اغراض و مقاصد کی تکمیل کیلئے پانی دستیاب نہیں ہے ۔ ایک طرف عوام دوسری طرف کسان پریشان ہیں ۔ اب تک مہاراشٹرا کے عوام نے کئی سیاسی جماعتوں کو آزمایا ہے ، اس مرتبہ آئندہ ضلع پریشد کے انتخابات میں بی آر ایس پارٹی پر بھروسہ کریں وہ عوام کے بھروسہ کا پورا پورا خیال رکھیں گے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ ممبئی کو ملک کا مالیاتی شہر کہا جاتا ہے ، جب کہ تلنگانہ میں کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جاسکتی ہے تو مہاراشٹرا میں کیوں نہیں دی جاسکتی، ملک میں تبدیلی کی ضرورت ہے ، ملک میں اراضیات کو کاشت کے قابل بنانے دریاؤں کی کمی نہیں ہے ۔ سارے ملک میں زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہ کرنے کی گنجائش ہے لیکن حکمران عوام کو ان سہولتوں سے محروم رکھ رہے ہیں ۔ اگر کوئی اس کو غلط ثابت کردے تو وہ چیف منسٹر کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے ۔ بی جے پی حکومت نے جن پبلک سیکٹرس کو خانگی شعبوں کے حوالے کیا ہے ہم اقتدار حاصل کرنے کے بعد دوبارہ انہیں پبلک سیکٹرس میں تبدیل کردیں گے ۔ مہاراشٹرا کے سابق چیف منسٹر موجودہ ڈپٹی چیف منسٹر فڈنویس سوال کررہے ہیں کہ مہاراشٹرا میں کے سی آر کا کیا کام ہے ، اگر تلنگانہ ماڈل کو مہاراشٹرا میں پیش کیا جائے تو وہ یہاں کیوں آئیں گے ۔ مہاراشٹرا دلت بندھو ، رعیتو بیمہ ، زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے برقی ، رعیتو بندھو اسکیمات پر عمل کیا جائے ۔ امبیڈکر جس سرزمین پر پیدا ہوئے وہاں ان کا کوئی احترام نہیں کیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ کے طرز کی فلاحی اسکیمات پرمہاراشٹرا میں کیوں عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ نئی تعمیر شدہ پارلیمنٹ کی عمارت کو امبیڈکر سے موسوم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کسانوں کی حکومت تشکیل دینے بی آر ایس کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ کے سی آر نے مسلمانوں کو عیدالفطر کی مبارکباد پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ایک ایک لفظ پر مہاراشٹرا کے عوام گاؤں اور شہروں میںگفتگو کرکے غور کریں ۔ کیا اپنی زندگیوں میں تبدیلی آنی چاہیئے یا نہیں ۔ اس پر بحث کریں پھر جاکر فیصلہ کریں ۔ آزادی کے 75 سال بعد بھی مہاراشٹرا میں کوئی تبدیلی نہیں ہے ۔ سمبھاجی نگر میں ہفتہ میں ایک دن پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ مہاراشٹرا کے عوام پینے کے پانی سیراب کے پانی سے محروم ہیں جبکہ یہاں دریاؤں گوداوری اور کرشنا موجود ہے ۔ حکمرانوں کی غلطیوں کا عوام کو خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے ۔ بڑی بڑی باتیں کرنے سے قائدین کا قد بلند نہیں ہوتا بلکہ عوام کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قائدین کو عوام پسند کرتے ہیں ۔ کے سی آر نے کہا کہ مہاراشٹرا میں بی آر ایس کو حکمت تشکیل دینے کا موقع فراہم کیا گیا تو آئندہ 5 سال میں گھر گھر پانی سربراہ کرنے کا وعدہ کیا ۔ ن