ملک پیٹ میں آئی ٹی پارک، پسماندگی سے ترقی کی طرف پیشقدمی

   

حیدرآبادی آرکٹکٹ میر اشفاق علی خان نے ڈیزائن کیا
l 10 ایکر پر 19 منزلہ 2 ٹاورس l 3 سال میں تکمیل کا نشانہ l ہزاروں نوجوانوں کیلئے روزگار l اطراف کے علاقوں کی ترقی

حیدرآباد ۔ 2 اکٹوبر (سیاست نیوز) اولڈ سٹی (پرانے شہر) کے تصور کے ساتھ ہی پسماندگی اور ناخواندگی کا خیال ذہنوں میں ابھرتا ہے لیکن اب وہ دن دور نہیں جب اولڈ سٹی ملک کے ایک نامور آئی ٹی ہب میں تبدیل ہوجائے اور بین الاقوامی ادارے اپنی سرگرمیوں کے آغاز کے ذریعہ روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا کریں گے۔ پرانے شہر میں آئی ٹی پارک کے قیام کا خواب آئندہ 36 ماہ میں پورا ہوگا۔ جب ملک پیٹ کے علاقہ میں 10.35 ایکر اراضی پر 26 منزلہ آئی ٹیک نیوکولیس iTEK NUCLEUS کے دو ٹار تیار ہوجائیں گے۔ وزیرانفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راماراؤ نے آئی ٹی پارک کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے 3 سال میں تکمیل کا وعدہ کیا۔ تلنگانہ حکومت اور تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے FINCZARS کنسورشیم کے اشتراک سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پراجکٹ کی تکمیل کا منصوبہ بنایا ہے۔ پراجکٹ کا ڈیزائن حیدرآباد کے نامور آرکٹکٹ میر اشفاق علی خاں نے تیار کیا ہے جنہیں دیگر پراجکٹس کی ڈیزائننگ پر ایوارڈس حاصل ہوچکے ہیں۔ وہ میر آرکٹکٹ اینڈ انجینئرس پرائیویٹ لمیٹیڈ کے ڈائرکٹر ہیں اور انہیں پرانے شہر میں ترقی اور تبدیلی کے انقلاب کے طور پر پہلے آئی ٹی پارک کی ڈیزائننگ کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ حکومت نے اس پراجکٹ کیلئے محکمہ آر اینڈ بی کی 62 ایکر اراضی کی نشاندہی کرتے ہوئے پہلے مرحلہ کے کاموں کیلئے 10.35 ایکر اراضی حاصل کی۔ 2 آئی ٹی ٹاورس دو حصوں پر مشتمل ہوں گے جو 4.35 ایکڑ اور 6 ایکر پر محیط ہوں گے۔ پرانے شہر کا یہ آئی ٹی پارک شمال، مشرق اور مغرب کو جنوب سے مربوط کرے گا اور توقع کی جارہی ہے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارے یہاں اپنے دفاتر قائم کریں گے جس سے اطراف کے علاقوں میں ترقی اور روزگار کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ آئی ٹی پارک کے قیام سے شہر بالخصوص پرانے شہر کے آئی ٹی ماہرین اور پروفیشنلس کو اپنی ایجادات اور تخلیقات پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ جس طرح ٹکنالوجی اور اختراعی شعبہ جات میں حیدرآباد نے دنیا بھر میں اپنی شناخت بنائی ہے اسی طرح ملک پیٹ کا آئی ٹی ٹاور بھی بین الاقوامی اداروں کے مرکز میں تبدیل ہوگا۔ ملک کے دیگر میٹرو شہروں کے مقابلہ حیدرآباد نے آئی ٹی ایکسپورٹ میں بنگلور اور ممبئی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ملک بھر کے آئی ٹی پروفیشنلس حیدرآباد کا رخ کررہے ہیں۔ آئی ٹی پارک سے نہ صرف ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اطراف کے علاقوں میں ہیلت، ہاؤزنگ اور دیگر شعبہ جات کی ترقی ہوگی۔ آئی ٹی ٹاورس کی تکمیل سے آئی ٹی پروفیشنلس کو انکیوبیٹرس تک رسائی، ڈیجیٹل ایمپاورمنٹ، معاشی ترقی اور حیدرآباد کی روایتی تہذیب و ثقافت کو فروغ حاصل ہوگا۔ IT اور ITEs دفاتر کا قیام اور ورک اسپیس کے سبب ماہرین کو مسافت اور وقت دونوں کی بچت ہوگی۔ واضح رہیکہ امریکہ میں متحدہ آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے آئی ٹی پروفیشنلس نے اپنی شناخت بنائی ہے اور امریکہ میں IT شعبہ کی ترقی میں تلگو ریاستوں کے پروفیشنلس کا اہم رول ہے۔ آئی ٹی شعبہ کی ترقی کے نتیجہ میں حیدرآباد کو رہائش کے لئے بسٹ سٹی کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ میر اشفاق علی خاں کو امید ہے کہ ان کا ڈیزائن کردہ پراجکٹ پرانے شہر کی ترقی میں نئی جہت کا اضافہ ثابت ہوگا اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے مظاہرہ کا موقع ملے گا۔