ملک کورونا وبا سے پوری طاقت سے لڑ رہا ہے

,

   

ہندوستان پہلے سے دس گنا آکسیجن تیار کررہا ہے ،وزیراعظم کا ریڈیو پروگرام’ من کی بات‘

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کہا کہ گذشتہ 100 برسوں میں سب سے بڑی کورونا وبا کے خلاف ملک پوری طاقت کے ساتھ لڑ رہا ہے ۔مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں مسٹر آج کہا کہ ملک پوری طاقت کے ساتھ کووڈ سے لڑ رہا ہے اور گزشتہ 100 برسوں میں یہ سب سے بڑی وبا ہے ۔ اس وبا کے درمیان ہندوستان نے کئی قدرتی آفات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ اس دوران طوفان آمفن ، نسرگ ، کئی ریاستوں سیلاب میں آیا ، کئی زلزلے آئے ، لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے دور میں طوفان سے متاثر تمام ریاستوں کے عوام نے جس طرح سے ہمت کا مظاہرہ کیا ہے ، اس بحران کی گھڑی میں صبر و جمیل کے ساتھ اورنظم و ضبط کے ساتھ مقابلہ کیا ہے ۔ مرکز ، ریاستی حکومت اور انتظامیہ سبھی اس سے نمٹنے کے لئے متحد ہیں ۔ ملک کے عوام ان سے پوری طاقت کے ساتھ لڑے اور کم از کم جانی نقصان ہوا ۔مودی نے کہا کہ ابھی بھی گزشتہ 10 دنوں میں ہی ملک نے دو بڑے طوفانوں کا سامنا کیا ہے ۔ مغربی ساحل پر طوفان‘ تاوتے ’ اور مشرقی ساحل پر طوفان ‘یاس’۔ ان دونوں طوفانوں نے کئی ریاستوں کو متاثر کیا ہے ۔ ملک اور ملک کے عوام ان سے پوری طاقت سے لڑی کم سے کم جانی نقصان کو یقینی بنایا ۔ انہوں نے کہا ‘‘ اب ہم محسوس کرتے ہیں کہ پہلے کے سالوں کے مقابلے میں زیادہ لوگوں کی جان بچا پا رہے ہیں ۔ آفت کی اس مشکل اور غیر معمولی صورتحال میں طوفان سے متاثرہ تمام ریاستوں کے عوام نے جس طرح جرات مندی کا مظاہرا کیا ہے ، اس بحران کی گھڑی میں بڑے صبرو تحمل کے ساتھ اورنظم وضبط کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ میں دل کی سے ملک کے باشندوں کی تعریف کرتا ہوں ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ آکسیجن کی طلب میں اچانک اضافے کے بعد کورونا کی دوسری لہر میں 10 گنا آکسیجن تیار کئے جارہے ہیں۔اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں مودی نے آج کہا کہ قوم اس وبا کے دوران فوجیوں اور کورونا واریئرس نے جو کام ہے اس کے لئے ملک انہیں سلام پیش کرتا ہے ۔
اتنی بڑی مصیبت دنیا میں سو سال بعد آئی ہے ، ایک صدی کے بعد اتنا بڑا بحران! لہذا ، کسی کو بھی ایسے کام کا تجربہ نہیں تھا۔ اس کے پس پردہ اہل وطن کا جذبہ اور عزم ہے ۔ یہی وجہ سے ملک نے ایسا کام کیا جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔’’انہوں نے بتایا کہ “آپ اندازہ لگاسکتے ہیں ، عام دنوں میں ہم ایک دن میں 900 ٹن مائع طبی آکسیجن تیار کرتے تھے ۔ اب یہ 10 گنا سے زیادہ بڑھ کر تقریبا روزانہ تقریبا 9500 ٹن پیداوار ہورہاہے ۔ ہمارے واریئرس اس آکسیجن کو ملک کے دور درازعلاقوں میں پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب کورونا کی دوسری لہر آئی تو اچانک آکسیجن کی طلب میں کئی گنا اضافہ ہوگیا یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا ، میڈیکل آکسیجن کو ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچانا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ آکسیجن ٹینکر زیادہ تیز چلے ۔ یہاں تک کہ اگر ایک چھوٹی سی غلطی بھی کرتے ہیں تو اس میں ایک بہت ہی بڑے دھماکے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ ملک کے مشرقی علاقوں میں صنعتی آکسیجن تیار کرنے والے بہت سے پلانٹ ہیں ، وہاں سے آکسیجن کو دوسری ریاستوں میں لے جانے میں کئی دن لگتے ہیں۔ ملک کے سامنے آئے اس چیلنج سے ملک کی مدد کی کرائیوجینک ٹینکر چلانے والے ڈرائیوروں نے ، آکسیجن ایکسپریس نے ، ائر فورس کے پائلٹ۔ ایسے بہت سے لوگوں نے جنگی سطح پر کام کیا اور ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائیں۔