تلنگانہ میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کی سازش، کرناٹک انتخابی نتائج کے بعد فرقہ پرست پارٹی کے منصوبے
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔9۔جولائی۔ملک بھر میں تبدیل ہورہے سیاسی حالات سے خائف برسراقتدار جماعت اب مسلم ‘ پسماندہ اور دلت ووٹوں کو منقسم کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہوچکی ہے اور ملک کی کئی ریاستوں میں پسماندہ ‘ دلت اور مسلم ووٹوں کو منقسم کرنے کے لئے یہ باور کروایا جا رہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں سیاسی جماعتیں برہمن واد کے زیر اثر ہیں اسی لئے دونوں سیاسی جماعتوں کو مستحکم کرنے سے گریز کرنا ان طبقات کی ذمہ داری ہے ۔ پسماندہ طبقات ‘ اور دلتوں کے علاوہ مسلمانوں کے لئے کان بھرنے والی تنظیموں اور ان کے جہدکاروں کو ملک بھر میں متحرک کرتے ہوئے ان کے ذریعہ ماحول سازی کی جانے لگی ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ان طبقات کو نہیں جانا چاہئے ۔ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی میں جہاں مسلم ووٹ کا متحدہ استعمال کلیدی کردار کا حامل ہے وہیں دلت اور پسماندہ طبقات نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالف دلت و پسماندہ پالیسیوں کے خلاف ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کو کامیاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ کرناٹک میں سیاسی صورتحال اور رائے دہندوں کے نظریات کو دیکھنے کے بعد اب بھارتیہ جنتا پارٹی نے علاقائی سیاسی جماعتوں کے ساتھ خفیہ مفاہمت کرتے ہوئے کئی ریاستوں میں غیر سیاسی تنظیموں کے ذریعہ مخالف بی جے پی اور مخالف کانگریس نظریات کو عام کرتے ہوئے تیسرے متبادل کو فائدہ پہنچانے کی سازش شروع کردی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں بھی اس طرح کی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہوئے مسلم ووٹوں کی تقسیم کی منظم سازش کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ایسی غیر سرکاری تنظیمیں جو بظاہر کسی بھی سیاسی جماعت کا ساتھ نہیں دیتی لیکن ان کے پس پردہ تحریک میں جو اچھی قیمت ادا کرے اس کی مدد کرنا ہوتا ہے ان تنظیموں کو استعمال کیا جانے لگا ہے اور تلنگانہ میں بھی بااثر شخصیات کو استعمال کرتے ہوئے ملاحظۂ اسباب شروع کردیا گیا ہے جبکہ عین انتخابات سے قبل مسلم‘ دلت اور پسماندہ طبقات کے ووٹوں کا ہراج کردیا جائے گا ۔ تلنگانہ میں مسلم ‘ دلت اور پسماندہ ووٹوں کو تقسیم کرنے کے لئے ’’پسماندہ مسلمان‘‘ کے علاوہ ’’مولنیواسی‘‘ کے نام پر انہیں گمراہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور اس کے لئے بااثر افراد کو متاثر کرتے ہوئے انہیں یہ باور کروایا جارہاہے کہ کانگریس ہویا بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں ہی مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ نہیں ہیں ۔ اس مہم میں شدت پیدار کرنے والوں کی جانب سے ابھی کوئی تیسرے متبادل کا نام پیش نہیں کیا جا رہاہے لیکن تلنگانہ میں اگر ان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ بغیر نام لئے بھارت راشٹرسمیتی کی جانب اشارہ کر رہی ہیں تاکہ مسلم ووٹ منقسم ہوتے ہوئے بے وقعت ہوکر رہ جائیں جبکہ اگر مسلمان متحدہ طور پر اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تو ایسی صورت میں 40 نشستوں پر نہ صرف کسی بھی سیاسی جماعت کے امیدوار کو کامیاب بنا سکتے ہیں بلکہ 24ایسی نشستیں ہیں جن پر مسلم ارکان اسمبلی کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکتاہے۔ پسماندہ طبقات اور دلتوں کی قیادت کے خود ساختہ دعویدار جو ان کے مسلمانوں اور دلتوں کے علاوہ پسماندہ طبقات کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں تحریکات ‘ جلسے اور جلوس کی بات کر تے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپنے طبقہ کے علاوہ دیگر کے مسائل پر بھی آواز اٹھانے والے ہیں دراصل مسلمانوں کو مسابقتی میدان میں برداشت کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور نہ ہی وہ مسلمانوں کی سماجی و تعلیمی ترقی کے حق میں ہیں۔گذشتہ دنوں شہر حیدرآبا دمیں اسی طرح کی ایک تنظیم کے ذمہ دار نے سرکردہ مسلم شخصیات کی موجودگی میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ہندستان میں موجود مسلمانوں کی رگوں میں دلتوں‘ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والوں کا خون دوڑ رہا ہے ۔ ان تنظیموں کے قائدین تلنگانہ میں اپنی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے علاوہ بااثر قائدین کو مخمصہ میں مبتلاء کرتے ہوئے انہیں مسلمانوں کے سیاسی اتحاد اور ان کی منصوبہ بندی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لئے وہ معصوم اور بھولے بھالے غیر سیاسی بااثر افراد کو اپنے جال میں پھنساتے ہوئے اپنے مقصد کے حصول کی سمت رواں دواں ہیں۔سیاسی طور پر مسلمانوں کو کمزور رکھنے اور ان کے ووٹ کی اہمیت و وقعت کو گھٹانے کے لئے ان کے درمیان سیاسی اتحاد کو یقینی بننے سے روکنے کے لئے کی جارہی ہے اس کوشش کے لئے پسماندہ مسلمان کے علاوہ مسلمانوں کے دلتوں اور پسماندہ طبقات سے تعلقات میں استحکام کے نام پر انہیں گمراہ کیا جا رہاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پسماندہ طبقات میں شامل اکثریتی برادری نے اب تک بھی ان مسلم پسماندہ طبقات کو درج فہرست پسماندہ طبقات میں شامل کئے جانے کے بعد بھی قبول نہیں کیا ہے اور نہ ہی وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان پسماندہ طبقات کی فہرست میں باقی رہیں اور وہ بھی پسماندہ طبقات کے طرز پر اسکیمات سے استفادہ حاصل کریں۔م