ملک کی بیروزگاری کے اعداد و شمار کا افشاء سنگین مسئلہ

   

پانچ سال کے اعداد و شمار کی ہر تین ماہ کے جائزہ میں تبدیلی
نئی دہلی ۔18جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت نے جمعرات کو اس بات کا اعتراف راجیہ سبھا میں کیا ہے کہ بیروزگاری کے اعداد و شمار کا افشاء ہوا ہے اور حکومت اس بات کا پتہ لگانے کیلئے کوشاں ہے کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ۔ وقفہ صفر کے دوران بعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے منصوبہ بندی و اعداد و شمار کے مملکتی وزیر اندر جیت سنگھ نے اس معاملہ کو بہت ہی ’’ سنگین ‘‘ قرار دیا ۔ حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں اس کے اعلان سے قبل یہ ظاہر ہوگیا ۔ انہوں نے ایوان کے ارکان کو یہ بھی بتایا کہ حکومت نے بیروزگاری کی شرح معلوم کرنے کے طریقہ کو بھی بدل دیا ہے ۔ اب اسے ہر سہ ماہی کے مدتی جائزے کی اساس پر ہر سال تیار کیا جائے گا ۔ اس سے قبل یہ ہر پانچ سال کے جائزے پر مبنی ہوا کرتا تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ’’ یہ سچ ہے مواد کا افشاء ہوا ہے ۔ ہمارے تیار کردہ اعداد و شمار 30مئی 2019 کو پیش کئے جانے والے تھے اس سے قبل ہی ان کا انکشاف ہوگیا ۔ ہم اسے ایک بہت ہی سنگین مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی پشت پر کسی کا ایجنڈہ کارفرما ہو ۔ ہم اس کا پتہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ روزگار اور بیروزگاری کی شرح کا جائزہ ہر پانچ سال میں لیا جاتا ہے ۔ تاہم اس حکومت میں ہر سال ایک مقررہ مدت میں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے طریقہ کار اور تکنیک میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اس لئے این ایس ایس او کے موجودہ اور سابق جائزوں میں فرق پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ این ایس ایس او کے اعداد و شمار اگر شروع میں حاصل کئے جاتے تو وہ 2.2فیصد ہوتے اور اگر انہیں پانچ سال میں ایک بار لیا جاتا تو بھی وہ اس حساب سے ہوتے مگر اس کے طریقہ کے بدل جانے سے دیہی اور شہری اعداد و شمار میں فرق پیداہوگیا ہے ۔ ان کے بیان کے مطابق لیبر ملازمتوں اور بیروزگاریوں کا نئے نمونے میں پرانے طریقہ کار کے مطابق فرق پایا جاتاہے ۔ آپ سیب سے سنگتروں کا تقابل نہیں کرسکتے ۔ نئے طریقہ کار میں سالانہ جائزہ ہے جو ہر تین ماہ کے جائزے پر مبنی ہوگا ۔