جموں: مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اتوار کے روز کہا کہ ہندو مسلم میں تفرقہ ڈال کر ملک کا سر کھبی بھی اونچا نہیں ہوسکتا ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے ماضی میں ہندو مسلم میں تفرقہ ڈال کر سرکاریں بنائی ہیں۔ان باتوں کا اظہار وزیر دفاع نے راجوری میں انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ ہندو مسلم ، سکھ اور عیسائی جو بھی ہندوستان میں رہتا ہے آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ان کے مطابق بی جے پی نے ہمیشہ ملک کو جوڑنے کا کام کیا لیکن کانگریس نے اقتدار کی خاطر ہندو مسلم سماج میں نفاق ڈالا اور آج بھی اسی منصوبے پر عمل پیرا ہے ۔راجناتھ سنگھ نے کہاکہ ہندو مسلم کے نام پر ملک کو بانٹ کر ہم ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتے ، سبھی کو ساتھ لے کر ہی ملک ترقی کے اہداف حاصل کرسکتا ہے ۔ کانگریس اور نیشنل کانفرنس پر پھوٹ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہاکہ اقتدار کی خاطر یہ دونوں پارٹیاں کچھ بھی کرسکتی ہیں۔ دفاعی وزیر نے کہاکہ جموں وکشمیر کے مسلم سماج اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ساتھ لے کر ہم اس بار جموں وکشمیر میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی ۔انہوں نے مزید بتایا کہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے ماضی میں ہندو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرکے حکومت بنائی۔ان کے مطابق دہشت گردی کے باعث جموں وکشمیر میں 80 فیصد مسلم سماج کے لوگ مارے گئے ۔جموں کشمیر اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں 25 ستمبر کو ووٹنگ ہوگی جبکہ دوسرے مرحلہ کی انتخابی مہم کا کل اختتام عمل میں آئے گا۔ بی جے پی کے علاوہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس اتحاد کی جانب سے زوروشور سے مہم چلائی جارہی ہے۔