ملک کی جی ڈی پی میں 11 فیصد تک کا اضافہ متوقع

,

   

مالیاتی سال 2022ء کی معاشی سروے رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش

نئی دہلی : ہندوستان کی معیشت آئندہ مالیاتی سال میں 11 فیصد نشانہ کو پہنچ جائے گی۔ کوروناوائرس کے طویل اثرات کے بعد ہندوستانی معیشت دوبارہ اپنے استحکام کو پہنچے گی۔ اندرون ملک مجموعی پیداوار کا نشانہ 31 مارچ 2021ء کیلئے 7.7 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں گذشتہ سالانہ جی ڈی پی کے تناسب سے جائزہ لیا گیا تو مالیاتی سیل 1979-80 میں جی ڈی پی 5.2 فیصد تھی۔ معاشی سروے 2020-21ء میں کہا گیا تھا کہ زراعت، خدمات بھی بہترین خدمات ہیں۔ مینوفکچرنگ اور تعمیراتی شعبوں میں بھی لاک ڈاؤن کا اثر ہوا ہے۔ کوروناوائرس کے پھوٹ پڑنے کے بعد کئی معاشی ادارے متاثر رہے ہیں۔ وزیرفینانس نرملا سیتارامن نے معاشی سروے 2020-21ء کو آج پارلیمنٹ میں پیش کیا۔ دو دن بعد وہ یکم ؍ فبروری کو مرکزی بجٹ پیش کررہی ہیں۔ چیف اکنامک اڈوائزر کے وی سبرامنیم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاشی سروے ملک کی معیشت کیلئے ایک روڈ میاپ ہے۔ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا آج سے آغاز ہوا جس میں صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے دونوں ایوان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ گذشتہ معاشی سروے کے دوران 2018-19ء میںحکومت نے ملک کی جی ڈی پی پیداوار 7 فیصد مقرر کی تھی جو 5 سالہ نچلی سطح کے 6.8 فیصد سے بڑھ کر تھا۔ تاہم کوویڈ۔19 کے باعث ہندوستان معیشت میں جو انحطاط آیا ہے اس سے باہر نکلنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ سروے میں کہا گیا کہ ہندوستان کو توقع ہیکہ آئندہ دو سال میں معاشی رفتار تیز ہوگی۔اس ہفتہ کے اوائل میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ہندوستان کیلئے 2021ء میں پیداواری شرح 11.5 فیصد بتائی تھی۔