آر بی آئی سے ہزارہا کروڑ رقومات کے حصول کے باوجود معاشی انحطاط غیر مستحکم ، عوام محفوظ رقومات پر متفکر
حیدرآباد۔9اکٹوبر(سیاست نیوز) بینک کتنے محفوظ ہیں اور شہریوںکی بینکو ںمیں جمع رقومات کس حد تک محفوط ہیں اور کیا حکومت اس دولت پر اپنا قبضہ کرے گی یا ملک کی معیشت میں سدھار کیلئے حکومت کے پاس کوئی اور منصوبہ بھی موجود ہے؟حکومت ہند کی جانب سے ریزرو بینک آف انڈیا سے فاضل ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپئے کی رقم حاصل کرنے کے بعد معاشی انحطاط میں کوئی تبدیلی نہ لائے جانے کے سبب شہریوں میں کئی خدشات پیدا ہونے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی زیر نگرانی چلائے جانے والے عوامی بینکوں میں جمع عوامی دولت پر حکومت قبضہ کرسکتی ہے اور اس کیلئے یہ کہا جائے گا کہ ان عوامی بینکوں میں ہونے والے دھوکہ دہی کے واقعات کے تدار ک کے لئے حکومت کی جانب سے یہ اقدام کیاگیا ہے۔حکومت ہند کی جانب سے ملک کے بینکوں میں ریکارڈ کئے جانے والے دھوکہ دہی کے واقعات میں جاریہ مالیہ سال کے پہلے سہ ماہی کے دوران جو دھوکہ دہی کے ذریعہ رقم ہڑپ لی گئی ہے وہ منموہن سنگھ کی دوسری معیاد میں جتنی دھوکہ دہی بینکوں سے کی گئی تھی اس سے کافی زیادہ ہے۔ یو پی اے II کے 5 برسوں کے دوران 29ہزار24کروڑ کی دھوکہ دہی کے واقعات منظر عام پر آئے لیکن مالی سال 2019-20 پہلے سہ ماہ یعنی اپریل ‘ مئی اور جون کے دوران جو بینکوں دھوکہ دیا گیا ہے وہ رقم جملہ 31ہزار898 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور یہ جملہ رقم عوامی شعبہ کے بینکوں کو دی گئی دھوکہ دہی کی ہی ہے۔ نریندر مودی کی پہلی معیاد میں جملہ ایک لاکھ 74ہزار 743 کروڑ کی بینکوں کو دھوکہ دہی کے واقعات منظر عام پر آئے اور اب دوسری معیاد کے ؎پہلے مالی سال کے تین ماہ میں یہ دھوکہ دہی کی رقم 31ہزار کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ عوامی شعبہ کے جن بینکوں کو دھوکہ دہی کا شکار بنایا گیا ہے
ان میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا 12ہزار12 کروڑ کی دھوکہ دہی کا شکار ہوا ہے جبکہ الہ آباد بینک کو 2ہزار855کروڑ کا دھوکہ دیا جاچکا ہے اسی طرح بینک آف بڑودہ 2ہزار297 کروڑ کی دھوکہ دہی کا شکار ہے تو اورینٹل بینک کو 2ہزار 133 کروڑ کی دھوکہ دہی کا سامنا ہے۔ کنارا بینک کو جاریہ مالی سال کے پہلے سہ ماہی کے دوران 2ہزار35کروڑ کی دھوکہ دہی کا شکار ہونا پڑا ہے جبکہ سنٹرل بینک آف انڈیا کو جاریہ مالی سال کے دوران اب تک 1196 کروڑ کی دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ کارپوریشن بینک کو بھی 960 کروڑ کا دھوکہ اب تک دیا جاچکا ہے اور انڈین اوورسیز بینک کو دی گئی دھوکہ دہی کی رقم 934کروڑ تک پہنچ چکی ہے اسی طرح سینڈیکیٹ بینک کو 797 کروڑ کی دھوکہ دہی کا سامنا ہے اور یونین بینک آف انڈیا کو 753 کروڑ کی دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی طرح بینک آف انڈیا کو جاریہ مالی سال کے پہلے تین ماہ کے دوران 517 کروڑ کی دھوکہ دہی کا شکار بنایا گیا ہے اور UCO بینک کو 470 کروڑ کی دھوکہ دہی کا شکار بنایا جاچکا ہے۔ عوامی شعبہ کے بینکوں کے ساتھ جاریہ مالی سال کے دوران کی جانے والی اس پہلے تین ماہ کی دھوکہ دہی کا جائزہ لیا جائے تو ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ آئندہ چند برسوں کے دوران ملک کی معیشت تباہ ہوجائے گی کیونکہ اب عوامی شعبہ کے بینک بھی دھوکہ دہی سے محفوظ نہیں رہے جہاں عوام اپنی دولت کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔