ملک گیر احتجاج کریں گے: مسلم پرسنل لا بورڈ

   

نئی دہلی: ہندوستان میں مسلمانوں کی نمائندہ سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آج کہا کہ وہ وقف ترمیمی بل کو عدالت میں لے جائے گی۔ وہ اس ’’سیاہ قانون‘‘ کے خلاف لڑائی کو سڑکوں پر لے جائے گی۔ یہ قانون مسلم فرقہ کے حقوق کے لئے خطرہ ہے۔ وقف بل آج بحث اور منظوری کے لئے لوک سبھا میں پیش ہوا۔ ایوان ِ زیریں میں منظوری کے بعد یہ ایوان ِ بالا (راجیہ سبھا) میں جائے گا۔ پریس کانفرنس میں مجوزہ قانون کو نشانۂ تنقید بناتے ہوئے بورڈ کے رکن محمد ادیب نے دعویٰ کیا کہ یہ مسلم کمیونٹی کی جائیدادیں ضبط کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مت سوچئے کہ ہم ہار گئے ہیں۔ وقف جے پی سی میں بل کی مخالفت ہوئی تھی۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم نے جنگ ہاردی ہے۔ ہم نے ابھی شروعات کی ہے۔ یہ ملک کو بچانے کی لڑائی ہے کیونکہ مجوزہ قانون ملک کے تانے بانے کیلئے خطرہ ہے۔انہوں نے تمام باضمیر‘ باشعور شہریوں سے خواہش کی کہ وہ اس بل کی مزاحمت کریں۔
انہوں نے بورڈ کا عہد دہرایا کہ وہ قانونی اور عوام کے احتجاج دونوں طریقوں سے اس کی مخالفت کرے گا۔ محمد ادیب نے کہا کہ ہم عدالت جائیں گے۔ ہم مجوزہ قانون واپس لئے جانے تک چین سے بیٹھنے والے نہیں۔بورڈ کے نائب صدر محمد علی محسن نے کہا کہ مسلم تنظیم‘وقف ترمیمی بل 2025 کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
انہوں نے اس بل کو بھیدبھاؤ والا بل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل فرقہ وارانہ محرکہ ہے اور مسلم شہریوں کے دستوری حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ لڑائی اس لئے شروع کی ہے کہ ہم ملک کو بچانے چاہتے ہیں۔ ہمارا مقصد اس کالے قانون کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے ارکان کسانوں کے احتجاج کی طرح ملک گیر احتجاج کریں گے۔ ہم کسانوں کی طرح ملک بھر میں پروگرامس چلائیں گے۔ ضرورت پڑنے پر سڑکیں جام کردیں گے اور بل کی مخالفت کے تمام پرامن طریقے اختیار کریں گے۔ پریس کانفرنس کے بعد جاری صحافتی بیان میں بورڈ نے تمام سیکولر اور غیرفرقہ پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ باضمیر ارکان پارلیمنٹ سے خواہش کی کہ وہ اِس تفرقہ پسند بل کو مسترد کردیں اور مساوات‘ انصاف اور مذہبی آزادی کے دستوری اصولوں کو قائم دائم رکھیں۔ اس نے ارکان پارلیمنٹ سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ واک آؤٹ نہ کریں‘ بحث کریں۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ووٹنگ پر زور دیں۔ بورڈ نے ملک کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور پرامن و جمہوری احتجاج کریں۔