ملے پلی کا علاقہ ہندوستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا

,

   

خواتین کی بھاری تعداد کا فلاش پروٹسٹ ، سی اے اے کے خلاف نعرے ، کئی احتجاجی گرفتار
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ملے پلی کا علاقہ آج رات ہندوستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا ۔ خواتین کی بڑی تعداد آج رات ملے پلی چوراہے پر جمع ہوگئی یہ خواتین احتجاج کی اجازت دینے پولیس کے انکار سے برہم تھے اس فلاش پروٹسٹ کے دوران نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی جمع ہوگئی اور شہریت قانون این پی آر ، این آر سی کے خلاف زبردست احتجاج کیا ۔ اچانک منعقدہ اس اجلاس سے پولیس حرکت میں آگئی ۔ نوجوان اور خواتین کی بڑی تعداد جو دستور کے تحفظ کے نعرہ بلند کررہے تھے ۔ اس دوران پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجیوں کو گرفتار کرلیا اور انہیں مختلف پولیس اسٹیشنس منتقل کردیا ۔ رات دیر گئے ملے پلی کی جانب تمام راستوں کو پولیس نے عملاً ناکہ بندی کردی اور علاقہ میں طلایہ گردی میں اضافہ کردیا ۔ احتجاجی کوریج کے لیے پہونچنے والے صحافیوں کو پولیس نے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ ہندو ، مسلم ، سکھ عیسائی کو بھارت کے 4 سپاہی قرار دیا اور مخالف قانون نعرہ بلند کئے ۔ سماجی کارکنان ، خالدہ پروین اور شیبا مینائی اس احتجاج کے دوران موجود تھے ۔ اس دوران خالدہ پروین نے کہا کہ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا ۔ ہم ملک کے سیکولر کردار کو کبھی متاثر ہونے نہیں دیں گے ۔ اور آخر دم تک دستور کے تحفظ کے لیے جدوجہد کریں گے ۔ خالدہ پروین نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسمبلی میں فوری طور پراپنے اعلان کے مطابق قرار داد منظور کریں اور سی اے اے کے ساتھ ساتھ این پی آر اور این آر سی کے خلاف بھی کابینہ کا اجلاس طلب کرتے ہوئے قرار داد منظور کریں ۔ انہوں نے خواتین کے احتجاج کی اجازت نہ دینے کے خلاف پولیس اور انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اس موقع پر نوجوان اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھامے شہریت قانون ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔۔