ممبئی : ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے میں آج بامبے ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے جسٹس نتن سامبرے اور جسٹس راجیش پٹیل کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران عدالت نے فریقین کو کہا کہ وہ حتمی سماعت کے لیئے تیار رہیں ۔ 5 اکتوبر سے عدالت یومیہ تمام اپیلوں پر ایک ساتھ سماعت کریگی ۔ ملزمین کی ممبئی جیل منتقلی کی عرضداشتوں پر عدالت نے 3 اکتوبر کو سماعت کئیے جانے کا حکم جاری کیا ۔ ملزمین ناگپور سنٹرل جیل ، یروڈا (پونے ) سینٹرل جیل ، ناشِک سینٹرل جیل اور امراوتی سنٹرل جیل میں مقید ہیں۔ ملزمین نے عدالت سے گذارش کی ہے کہ سماعت کے دوران وہ عدالت میں حاضر رہنا چاہتے ہیں لہٰذا انہیں ممبئی کی کسی جیل میں منتقل کیا جائے ۔ استغاثہ نے ملزمین کی جیل منتقلی پر اعتراض کیا ہے اور کہا کہ پھانسی یارڈ سے ملزمین کو نکال کر جنرل یارڈ میں رکھنے سے سیکوریٹی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔دوران سماعت آج عدالت میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ (ارشد مدنی)کی جانب سے ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ گورو ودیگر موجود تھے ۔گزشتہ سماعت پر ریاستی حکومت کی جانب سے اپیلوں پر سماعت کیئے جانے کے تعلق سے سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کرنے پر کورٹ نے ریاستی حکومت کی سرزنش کی تھی اور کہا تھا کہ حکومت نے ابتک خصوصی وکیل استغاثہ کی تقرری نہیں کی ہے جو اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ریاستی حکومت اس اہم مقدمہ کو لیکر کتنی سنجیدہ ہے ۔بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی ننچ کے جسٹس نتن سامبرے اور جسٹس راجیش پٹیل کو سینئر وکیل راجا ٹھاکرے نے بتایا کہ ان کی تقرری کا آرڈر جاری کیا جاچکا ہے اور بحث کرنے کیلئے تیار ہیں ۔خصوصی مکوکا عدالت کے جج وائی ڈی شندے نے ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ ملزمین احتشام قطب الدین صدیقی، کمال انصاری، فیصل عطاء الرحمن شیخ، آصف بشیر اور نوید حسین کو پھانسی اور 7/ ملزمین محمد علی شیخ، سہیل شیخ، ضمیر لطیف الرحمن، ڈاکٹر تنویر، مزمل عطاء الرحمن شیخ،ماجد شفیع، ساجد مرغوب انصاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ایک ملزم عبدالواحد دین محمد کو باعزت بری کردیا تھا۔ایک جانب جہاں ریاستی حکومت نے پھانسی کی سزا پانے والے ملزمین کی سزاؤں کی تصدیق کے لیئے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی وہیں تمام ملزمین نے جمعیۃ علماء کے توسط سے خصوصی مکوکا عدالت کے فیصلے کو چینلج کیا ہے ۔