ممبئی میں طلباء کا احتجاج، دو افراد گرفتار

   

ممبئی: پولیس نے 10ویں جماعت کے آن لائن امتحانات کے مطالبے کو لے کر مرکزی ممبئی کے دھاراوی علاقے میں پیر کو وزیر تعلیم ورشا گائیکواڈ کی رہائش گاہ کے قریب طلباء کے احتجاج کے معاملے میں آج سوشل میڈیا پر اثر دکھانے والے “ہندوستانی بھاؤ “سمیت دو افراد کو گرفتار کیا ہے ۔ پولیس نے جن دو ملزمین کو گرفتار کیا ہے انکی شناخت ہندوستانی بھاؤ اصل نام وکاس پھاٹک اور اقرار خان کے طور پر ہوئی ہے ۔ پولیس نے ان کے اور دیگر ملزمین کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات (بشمول فسادات)، مہاراشٹر پولیس ایکٹ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور مہاراشٹر پریوینشن آف ڈیفیسمنٹ آف پراپرٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ موصلہ اطلاعات کے مطابق طلباء ہندوستانی بھاؤ کی ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد سڑکوں پر آئے تھے جس میں آف لائن امتحانات کے موضوع پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا دریں اثنا مہاراشٹر کانگریس کے رہنما سچن ساونت نے الزام عائد کیا ہے کہ جس کمپنی نے سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے ہندوستانی بھاؤ کو مقبول بنایا وہ بی جے پی / سنگھ سے تعلق رکھنے والی کمپنی کی ملکیت تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دھاراوی میں کل جو احتجاج ہوا وہ ایم وی اے حکومت کو بدنام کرنے کی بی جے پی کی سازش کا حصہ تھا۔ موجودہ وبائی امراض کے ایام میں دسویں اور بارہویں کے آف لائن امتحانات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کل بروز پیر ممبئی، تھانے ، ناسک، ناگپور، اورنگ آباد، عثمان آباد اور ریاست کے کچھ دیگر مقامات پر طلبہ کا احتجاج پھوٹ پڑا تھا۔