ممبئی کے ڈی مارٹ میں مسلم جوڑے کی مذہب کے نام پر توہین

   

Ferty9 Clinic

سوشیل میڈیا پر ویڈیو وائرل، ہندو جوڑے نے مسلم خاتون کو عصمت ریزی کی دھمکی دی
حیدرآباد۔ 4 جنوری (سیاست نیوز) ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول برقرار ہے اور عوامی مقامات پر مختلف انداز میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔ ممبئی وہار کے یشونت گورو رہائشی علاقہ میں واقع ڈی مارٹ میں ایک مسلم جوڑے کے خلاف ہندو جوڑے کے نفرت انگیز ریمارکس کا ویڈیو سوشیل میڈیا میں وائرل ہوا ہے۔ ویڈیو میں ہندو خاتون کو مسلم جوڑے کے خلاف انتہائی قابل اعتراض اور توہین آمیز ریمارکس کرتے دیکھا گیا۔ ایک اور ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ مسلم خاتون کہہ رہی ہے کہ وہ اپنے شوہرکے ساتھ قطار میں کھڑی تھی کہ ان کے سامنے موجود ہندو جوڑے نے ان کے حجاب کو دیکھ کر نازیبا ریمارکس کئے۔ ہندو جوڑے نے مسلم جوڑے سے مخاطب ہوکر کہا ’تم تو گندی ذات کے ہو، ہم سے دور رہو‘ جب مسلم خاتون کے شوہر نے ہندو خاتون کے غیر مہذب رویہ پر اعتراض کیا تو ہندو خاتون کے شوہر برہم ہوگئے اور مسلم خاتون سے مخاطب ہوکر کہا ’تو مسلمان عورت ہے نا، چل تو باہر نکل، میں آدمیوں کو بلاکر تیرا ریپ کراتا ہوں‘۔ مسلم خاتون کا کہنا ہے کہ ڈی مارٹ میں موجود دیگر کسٹمرس بشمول ڈی مارٹ عہدیداروں نے کوئی مداخلت نہیں کی برخلاف اس کے مسلم جوڑے سے خواہش کی کہ وہ مراٹھی میں بات کریں۔ ڈی مارٹ عہدیداروں نے یہاں تک کہ مسلم جوڑا مراٹھی میں بات نہیں کرے گا تو انہیں آئندہ کبھی سوپر مارٹ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مسلم جوڑے کی جانب سے پولیس سے شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ تقریباً 8 پولیس والے موجود تھے لیکن انہوں نے ہندو جوڑے کو جانے کی اجازت دی۔ پولیس نے شکایت قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ انہیں مراٹھی میں بات کرنی چاہئے۔ اس واقعہ کے وقت کوئی خاتون کانسٹبل موجود نہیں تھیں۔ مسلم خاتون نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی جانب سے بار بار پولیس اسٹیشن طلب کرکے ہراساں کیا جارہا ہے اور ہندو جوڑے سے معافی مانگنے کا دباؤ بنایا جارہا ہے۔ خاتون نے کہا کہ بغیر کسی غلطی کے وہ کیوں معذرت خواہی کریں۔ مخالف جوڑے نے غیر ضروری طور پر تنازعہ کھڑا کرکے مذہب کے نام پر برا بھلا کہا۔ ڈی مارٹ کے عہدیداروں نے واقعہ کا سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ سوپر مارکٹ میں مسلمانوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ ممبئی کی مقامی پولیس نے ابھی تک اس واقعہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ 1