ممتا بنرجی کا الیکشن کمیشن پر زندہ ووٹروں کو’’مردہ‘‘قرار دینے کا الزام

,

   

کولکاتہ میں غیر معینہ مدت کے احتجاج کا آغاز

کولکاتہ، 6 مارچ (یو این آئی) مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے جمعہ کو الیکشن کمیشن آف انڈیا پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی جامع نظرثانی کے دوران کئی زندہ ووٹروں کو غلط طور پر مردہ درج کر دیا گیا ہے ۔وسطی کولکاتہ کے میٹرو وائی چینل پر غیر معینہ مدت کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئیممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ کچھ ”نام نہاد مردہ” ووٹر احتجاج کے مقام پرخود موجود ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا، ”کمیشن کو شرم آنی چاہیے ۔ اس نے ووٹروں کو زندہ ہونے کے باوجود مردہ قرار دے دیا ہے ۔ ان میں سے کچھ آج یہاں یہ ثابت کرنے کے لیے موجود ہیں کہ وہ بالکل زندہ ہیں۔” انہوں نے انتخابی ادارے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا بھی الزام لگایا اور بی جے پی کو ایک ”بے شرم سیاسی قوت” قرار دیا۔ممتا بنرجی نے متاثرہ ووٹروں کی لمبی عمر کی دعا کی اور کہا کہ ان کی پارٹی نظرثانی کے عمل کی قریبی نگرانی کر رہی ہے ۔ ان کے مطابق، ایسے 22 ووٹروں کی شناخت کر لی گئی ہے جن کے نام مبینہ طور پر زندہ ہونے کے باوجود مردہ قرار دے کر فہرست سے نکال دیے گئے تھے ۔انہوں نے مزید کہا،”ہم اس مسئلے کا انچ انچ جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم اب تک ایسے 22 ووٹروں کا سراغ لگا چکے ہیں۔ میں میڈیا سے بھی درخواست کروں گی کہ وہ ان کیسز کو اجاگر کرے جہاں لوگ زندہ ہیں لیکن کمیشن کے ریکارڈ انہیں مردہ ظاہر کر رہے ہیں۔”حکمراں جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما، پارٹی سے وابستہ بوتھ لیول افسران کی ایک انجمن کے ارکان کے ساتھ احتجاج کے مقام پر موجود تھے ۔

ممتا کے احتجاج کے درمیان وکٹوریہ میموریل میں بم کی دھمکی
کولکاتہ، 6 مارچ (یو این آئی) مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتہ میں وکٹوریہ میموریل کے افسران کو جمعہ کو ای میل اور خط کے ذریعے بم کی دھمکی ملنے کے بعد اس تاریخی یادگار پر فوری طور پر سکیورٹی سخت کر دی گئی۔یہ دھمکی اس وقت ملی جب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی وکٹوریہ میموریل سے محض تین کلومیٹر دور ایسپلی نیڈ میں دھرنا دے رہی تھیں۔ ممتا بنرجی نے ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پر ووٹروں کے نام نکالے جانے کے خلاف آج دوپہر احتجاج شروع کیا۔افسران نے بتایا کہ یہ دھمکی سوشل میڈیا پر بھی جاری کی گئی تھی۔ یادگار پر موجود افسران نے فوری طور پر ہیسٹنگز پولیس اسٹیشن کو اطلاع دی جس کے بعد پولیس کی ایک بڑی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔