ممتا کو خود اپنی پارٹی میں ناراضگی کا سامنا

   

کولکتہ ۔ ریاست میں ٹرینی ڈاکٹرکی عصمت دری اور قتل کا معاملہ چیف منسٹر ممتا بنرجی کے لیے مسئلہ بن گیا ہے۔ ممتا جو مرکزی حکومت کے خلاف شور مچاتی تھی، اب خود نشانے پر ہے۔ یہ صرف سیاسی اور انتظامی محاذ پر ہی نہیں ہے کہ ممتاکو چیف منسٹر کے طور پر اپنے دور کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔ ممتا کوگھریلو محاذ پر بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی اس سارے معاملے پر منقسم نظرآتی ہے۔ ٹی ایم سی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہ کسی ایک معاملے پر تقسیم ہوئی ہے۔ اس سب کو دیکھ کر سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ٹی ایم سی ٹوٹے گی؟ جو لیڈر سوال اٹھا رہے ہیں وہ الگ ہو جائیں گے۔ٹی ایم سی میں دوسرے لیڈر اور ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی خود ناراض ہیں یہ بات بتائی جارہی ہے ۔ ابھیشیک حکومت نے جس طرح کولکتہ مقدمہ کو سنبھالا اس سے خوش نہیں ہیں۔ ڈائمنڈ ہاربرکے ایم پی ابھیشیک بنرجی نے بھی ممتا کے احتجاجی مارچ میں شرکت نہیں کی۔ سیاسی حلقوں میں چرچا ہے کہ ابھیشیک کولکتہ مقدمہ کو جس طرح سے نمٹا گیا اس سے خوش نہیں ہیں۔ آر جی کار اسپتال کے برطرف گئے پرنسپل کو فوری طور پر دوسرے اسپتال میں تعینات کرنا، اسپتال میں ہڑتال پر بیٹھے ڈاکٹروں پر حملہ کرنے والے ہجوم کو روکنے میں پولس کی ناکامی… ان دونوں مسائل پر ابھیشیک ناراض ہیں۔