ریاستی حکومت لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے ہر ممکن اقدمات کر رہی ہے ۔ جمعرات کے واقعہ میں تین مقدمات درج ۔ سات افراد گرفتار
کولکاتہ ۔ سخت گیر موقف اختیار کرتے ہوئے حکومت مغربی بنگال نے ریاستی چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل پولیس کو مرکزی وزارت داخلہ کی طلبی پر دہلی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے بی جے پی سربراہ جے پی نڈا کے قافلہ پر کولکاتہ میں مبینہ حملے کے بعد ان دونوں کو دہلی طلب کیا تھا ۔ اس واقعہ نے مرکزی اور ریاستی حکومت کے مابین ایک نیا تنازعہ چھیڑ دیا ہے ۔ چیف سکریٹری اے بندوپادھیائے نے مرکزی معتمد داخلہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ 14 جنوری کو طلب کردہ اجلاس میںریاست کے عہدیداروں کو نہ روانہ کیا جائے ۔ اس طرح انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ریاستی حکومت کے احکام کی پابندی کر رہے ہیں۔ وزارت داخلہ نے آج چیف سکریٹری بندو پادھیائے اور ڈائرکٹر جنرل پولیس وریندر کو دہلی طلب کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ 14 ڈسمبر کو دہلی پہونچیں تاکہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر وضاحت کرسکیں۔ واضح رہے کہ ریاستی گورنر جگدیپ دھنکر نے نڈا کے قافلہ پر مبینہ طور پر ٹی ایم سی کارکنوں کے حملے کے بعد مرکز کو ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر ایک رپورٹ روانہ کی ہے ۔ چیف سکریٹری نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ انہیں مرکز سے جو ہدایت ملی تھی اس کے مطابق انہیں 14 ڈسمبر کو 12.15 بجے دن وزارت داخلہ میں پیش ہوکر ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر وضاحت کرنی تھی تاہم انہیں ریاستی حکومت سے ہدایت ملی ہے کہ ریاست کے عہدیداروں کو مرکز کے اجلاس میں نہ روانہ کیا جائے ۔ انہوں نے دو صفحات کے اپنے مکتوب میں کہا کہ ریاست میں جو واقعات پیش آئے ہیں ان کے تعلق سے مزید اطلاعات جمع کی جا رہی ہیں اور ریاستی حکومت نے چونکہ اس مسئلہ کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اس لئے ریاستی عہدیداروں کی مرکز میں پیشی کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ کی درخواست کے مطابق ریاستی حکومت نے اہم شخصیتوں کی حفاظت کیلئے خاطر خواہ انتظامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیڈ زمرہ کی سکیوریٹی والے افراد کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا پہلے ہی سے جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ مغربی بنگال پولیس نے ایک بلیٹ پروف کار اور ایک پائلٹ کار جے پی نڈا کو فراہم کی تھی جو ریاستی پولیس عملہ کی اسکارٹ گاڑی کے علاوہ تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی آئی جی رتبہ کا عہدیدار علاقہ میں کیمپ کرتے ہوئے انتظامات کی شخصی نگرانی کر رہا تھا ۔ اس کے علاوہ دوسرے پولیس عہدیداروں اور عملہ کو بھی وہاں متعین کیا گیا تھا ۔ بندوپادھیائے نے کہا کہ مرکزی حفاظت کے حامل افراد کی سکیوریٹی کے انتظامات مرکز سے ہوتے ہی ہیں اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے بھی جو کچھ بھی ضروری اقدامات تھے وہ کئے گئے تھے ۔ جے پی نڈا کی کاروں قافلہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قافلہ میں بہت زیادہ کاریں تھیں اس لئے صورتحال بدل گئی ۔ انہوں نے کہا کہ سکیوریٹی عملہ کو صرف وی آئی پی فرد کی چند کاروں کے قافلہ کی حفاظت کرنی ہوتی ہے بہت زیادہ کاروں کے قافلہ کی حفاظت نہیں کی جاسکتی ۔ چیف سکریٹری نے اپنے مکتوب میں بتایا کہ جمعرات کو پیش آئے واقعہ کے سلسلہ میں تین مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ دو مقدمات توڑ پھوڑ سے متعلق ہیں اور اس میں سات افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے ۔ قبل ازیں مرکزی معتمد داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل پولیس کو 14 ستمبر کو دہلی آنے اور ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ یہ طلبی ریاستی گورنر جگدیپ دھنکر کی رپورٹ کے بعد کی گئی تھی ۔