ممتاز خان کے مسئلہ پر اویسی برادران میں نا اتفاقی !

   

کانگریس اور مجلس بچاؤ تحریک کے مشترکہ امیدوار ہوسکتے ہیں

حیدرآباد۔27 ۔اکٹوبر(سیاست نیوز) مجلسی رکن اسمبلی ممتاز احمد خان حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے کانگریس اور مجلس بچاؤ تحریک کے مشترکہ امیدوار ہوں گے!ممتاز احمد خان سے ملاقات کرنے والوں اور ان کے قریبی افراد کا کہناہے کہ ممتاز احمد خان مجلس سے علحدگی اختیار کرنے کی صورت میں تحریک اور کانگریس کے مشترکہ امیدوار ہوسکتے ہیں اسکے علاوہ وہ محض حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ ہی نہیں بلکہ حلقہ اسمبلی چارمینار سے مضبوط امیدوار کو میدان میں اتارنے منصوبہ بندی کرر ہے ہیں۔ذرائع کے مطابق مجلس نے ممتاز احمد خان یا ان کے کسی فرد خاندان کو امیدوار نہ بنانے کا قطعی فیصلہ کرلیا ہے اور اس فیصلہ سے انہیں واقف کروانے کے باوجود انہیں بعض رفقاء مجلس کی قطعی فہرست کے انتظار کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ ممتاز احمد خان کو دوبارہ امیدوار بنانے کے سلسلہ میں اویسی برادران میں اتفاق رائے نہ ہونے سے یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے ۔ممتاز احمد خان سے ملاقات کرنے والے ماہرین کا کہناہے کہ ممتاز خان اپنے طور پر پرچہ نامزدگی داخل کی کرنے کی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں اور اپنے افرادخاندان کے علاوہ قریبی رفقاء کے پروپوزل کی تیاری اور اپنے پرچہ نامزدگی میں درج کی جانے والی تمام تفصیلات جمع کرچکے ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ حلقہ یاقوت پورہ و چارمینار سے تحریک و کانگریس کے مشترکہ امیدوار کے ساتھ بطور آزاد امیدوار پرچہ نامزدگی داخل کرنے پر بھی وہ غور کر رہے ہیں۔ مجلس کے امیدواروں کی فہرست کے اعلان کے بعد بھی ممتاز احمد خان کی امیدواری کے متعلق صورتحال واضح ہونے کے امکانات موہوم ہیں کیونکہ پرچہ نامزدگی کے ادخال کے بعد پرچہ نامزدگی سے دستبرداری سے قبل تک ’بی ‘ فارم داخل کرکے کسی جماعت کے امیدوار بننے کی گنجائش باقی ہوتی ہے اسی لئے ممتاز احمد خان ابتداء میں بطور آزاد امیدوار پرچہ نامزدگی داخل کرکے جماعت کو قیاس آرائیوں یا مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ حلقہ یاقوت پورہ کے انچارج کو برقرار رکھے جانے پر کہا جا رہاہے کہ رکن اسمبلی نامپلی جناب جعفر حسین معراج کو یاقوت پورہ سے امیدوار بنانے کے امکانات موہوم ہوچکے ہیں ۔ واضح رہے کہ جعفر حسین معراج اور ممتاز احمد خان کے بہتر تعلقات کے پیش نظر انہیں یاقوت پورہ سے امیدوار بنانے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں لیکن یہ اطلاعات گشت کر رہی ہیں کہ جعفر حسین معراج نے حلقہ یاقوت پورہ سے مقابلہ سے منع کردیا ہے ۔ پرانے شہر میں گذشتہ ایک ہفتہ سے قیاس آرائیوں کے دوران اب تک سینکڑوں افراد نے ممتاز خان سے ملاقات کرکے انہیں تائید کا تیقن دیا ہے اور بعض سینیئر مجلسی کارکن اور قائدین بھی ان کے انتخابات میں حصہ لینے کے حق میں ہیں۔ صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی توقع ہے کہ اتوار کی شام تک مجلسی امیدواروں کی قطعی فہرست کا اعلان کریں گے اور امکان ہے کہ مجلس موجودہ 7 حلقہ جات اسمبلی کے علاوہ جوبلی ہلز و حلقہ اسمبلی راجندر نگر میں امیدوار نامزد کرینگے ذرائع کے مطابق 3نومبر کو انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی جناب ممتاز احمد خان اپنا پرچہ نامزدگی داخل کردیں گے۔