دیگر ریاستوں سے بھی 3 نوجوانوں کی گرفتاری،آندھرا پردیش پولیس کی کارروائی
اسلامک اسکالر مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کے بیانات گشت کروانے پر دہشت گردی کا الزام
ایس ایم بلال
حیدرآباد۔ 25 مارچ : آندھرا پردیش کے این ٹی آر کمشنریٹ کی پولیس نے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم سے مبینہ رابطے کے الزام میں گرفتار 3 نوجوان محمد رحمت اللہ شریف، محمد دانش اور مرزا سہیل بیگ کیس میں پولیس نے حیدرآبادشہر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اور دیگر ریاستوں سے تین نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس کیس میں حیرت انگیز دعویٰ دیکھا گیا ہے کہ نوجوانوں کو عالمی شہرت یافتہ اسلامک اسکالر مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کے بیانات کو سننے اور اسے گشت کرانے پر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اے پی پولیس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک قائم کیا گیا تھا جس میں آندھرا پردیش کے وجئے نگرم علاقہ کے محمد رحمت اللہ شریف، محمد دانش اور سہیل بیگ کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے مبینہ اقبالیہ بیان میں پرانے شہر کے چنچل گوڑہ علاقہ سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ خاتون سعیدہ بیگم کو پولیس نے آج گرفتار کرلیا۔ اے پی پولیس نے اس کیس میں اترپردیش کے ہریش علی، کرناٹک بلاری کے عبدالسلام اور راجستھان جودھ پور کے ذیشان کو بھی گرفتار کرلیاہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کیس میں 13 نوجوان ملوث ہیں جنہوں نے ٹیلی گرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنا مبینہ دہشت
گرد نیٹ ورک قائم کیا تھا اور نوجوانوں کو انتہاء پسندی کی طرف راغب کررہے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ جودھ پور کے نوجوان ذیشان نے ‘BENX’ کے نام سے ٹیلی گرام پر ایک گروپ قائم کیا تھا اور اس گروپ کے ذریعہ انتہاء پسندی کے شارٹ ویڈیوز گشت کرائے جارہے تھے۔پولیس نے 9 ٹیمیں تشکیل دیکر ملزمین کی گرفتار کیلئے دہلی، مغربی بنگال، کرناٹک، مہاراشٹرا، بہار، راجستھان اور دیگر ریاستوں کو روانہ کیاہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کا کلیدی ملزم محمد رحمت اللہ شریف ہے جس نے الملک یوتھ اسلامک کمیٹی کے عنوان سے سال 2023 میں یو ٹیوب چیانل قائم کیا اور دیگر سوشل میڈیا پر بھی اس مواد کو عام کیا گیا۔ سعیدہ بیگم بیوہ ہیں اور انہیں ایک کمسن لڑکا بھی ہے۔ وہ گزشتہ 20 سال سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ سعیدہ بیگم نے انسٹا گرام اکاؤنٹ Sayeeda begum 75 قائم کیا تھا اور بعض افراد سے مدد کے لئے چیاٹنگ کی تھی لیکن اترپردیش اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے اس خاتون کے سوشل میڈیا کے آئی ڈی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسے مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک کا مواد عام کرنے کیلئے استعمال کیا جبکہ یہ خاتون بالکل اس حقیقت سے لاعلم تھی۔ پولیس نے آج صبح اس کے مکان سے اسے گرفتار کرنے پر ضعیف ماں باپ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ چنچل گوڑہ علاقہ سے گرفتار ی پر مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خاں خالد نے پولیس پر جانب دارانہ رویہ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سعیدہ بیگم کو غلط اور بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار شدہ خاتون کے ضعیف ماں باپ سے ملاقات کے بعد امجد اللہ خاں خالد نے بتایا کہ سعیدہ بیگم ایک بیوہ خاتون ہے اور اس کا ایک کمسن لڑکا ہے اور زندگی گذارنے کیلئے وہ گھریلو ملازمہ کا کام کیا کرتی تھی۔ اس خاتون کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا بیجا استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس اس معاملہ کی حقیقت کا پتہ لگا ئے اور بے قصور خاتون کو ان الزامات سے بری کردے۔