منریگا سے متعلق لکھنو میں کانگریس نے اسمبلی کا گھیرائوکیا

,

   

انتظامیہ کی جانب سے سخت سکیوریٹی، متعدد کانگریسی قائدین گھروں میں نظربند

لکھنؤ، 17 فروری (یو این آئی) اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں منگل کو کانگریس نے منریگا مزدوروں کے واجب الادا ادائیگی کے مسئلے پر اسمبلی کے گھیراؤ پروگرام کے پیش نظر انتظامیہ نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور کئی کانگریس لیڈروں کو احتیاطی طور پر گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے ۔ صبح سے ہی شہر میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی۔ کانگریس کارکن مختلف علاقوں سے پارٹی دفتر پہنچنے لگے ۔ اسمبلی کے آس پاس اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے ۔ بیریکیڈنگ کی گئی ہے اور آنے جانے والوں پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسی دوران، صوبائی کانگریس صدر اجے رائے پارٹی دفتر پہنچے اور وہاں کارکنوں کے ساتھ آگے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پرامن طریقے سے اپنا احتجاج درج کرائے گی اور منریگا مزدوروں کی آواز ایوان تک پہنچائے گی۔ اجے رائے نے کہا کہ اسمبلی کا گھیراؤ منریگا مزدوروں کو وقت پر ادائیگی نہ ملنے کے خلاف کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مزدوروں کی اجرت 11-12 ماہ سے زیر التوا ہے اور اس سے غریب خاندانوں کو سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے ۔ انہوں نے مرکز کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ منریگا کا بنیادی مقصد غریبوں کو 100 دن کا روزگار فراہم کرنا تھا، لیکن موجودہ حکومت اس قانون کو کمزور کر رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدوروں کو وقت پر ادائیگی ہونے سے وہ اپنے کنبے کی کفالت کرنے سے قاصر ہیں۔ اجے رائے نے حکومت پر مذہبی مسائل کے حوالے سے بھی حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شنکراچاریہ کے احترام سے متعلق معاملے میں ریاستی حکومت کا کردار متنازع رہا ہے اور ریاست میں مذہبی و سماجی ہم آہنگی بگاڑنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ وہیں کانگریس رکن پارلیمنٹ کشوری لال شرما نے کہا کہ بڑی تعداد میں کارکن لکھنؤ پہنچ رہے ہیں اور پارٹی جمہوری طریقے سے مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت احتجاج کی آواز دبانے کے لیے لیڈروں کو نظر بند کر رہی ہے ۔ اسمبلی کمپلیکس کے آس پاس پولیس اور انتظامیہ پوری طرح مستعد ہے ۔ مظاہرین کو اسمبلی تک پہنچنے سے روکنے کے لیے بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔
کانگریس نے واضح کیا ہے کہ اس کا مظاہرہ پرامن رہے گا، جبکہ انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ اب دیکھنا ہوگا کہ دن بھر میں سیاسی حالات کس سمت آگے بڑھتے ہیں۔