رات دیر گئے تک غیر سماجی سرگرمیاں ، پلے گراؤنڈس اہم مراکز، ایس ایس سی اور انٹر نتائج پر ماہرین تعلیم کا سروے
حیدرآباد۔12۔مئی (سیاست نیوز) ایس ایس سی اور انٹرمیڈیٹ امتحانات میں گزشتہ چند برسوں سے لڑکوں کے مقابلہ لڑکیوں کا مظاہرہ بہتر رہا جس کے بعد ماہرین تعلیم نے لڑکوں میں تعلیم سے دلچسپی میں کمی کی وجوہات کا پتہ چلانے کی کوشش کی ہے۔ سرکاری اور خانگی اسکولس اور کالجس کے نتائج کا تقابلی جائزہ لینے کے بعد ماہرین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ لڑکوں کی اضافی سرگرمیاں راست طورپر سوشیل میڈیا کا استعمال اور تفریحی معاملات نے انہیں تعلیم سے دور کردیا ہے۔ گزشتہ دنوں انٹرمیڈیٹ اور ایس ایس سی کے نتائج جاری کئے گئے اور انٹرمیڈیٹ فرسٹ ایئر اور سکنڈ ایئر دونوں میں لڑکیوں کی کامیابی کا فیصد لڑکوں سے بہتر رہا۔ اسی طرح ایس ایس سی امتحانات میں لڑکیوں نے 88.53 فیصد کامیابی حاصل کی جبکہ لڑکوں کی کامیابی کا تناسب 84.68 فیصد رہا۔ شہری علاقوں کے مقابلہ دیہی علاقوں کے نتائج بہتر رہے ہیں۔ حیدرآباد اور رنگا ریڈی اضلاع جو کبھی نتائج کے معاملہ میں سرفہرست ہے، آج وہ پسماندہ ہوچکے ہیں۔ دونوں اضلاع میں تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے اور کئی کارپوریٹ ادارے حیدرآباد اور رنگا ریڈی میں ہے، باوجود اس کے دونوں اضلاع کا نتیجہ حوصلہ افزاء نہیں رہا۔ ایس ایس سی میں نرمل ضلع 99 فیصد نتائج کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ آصف آباد ضلع 98.7 فیصد کے ساتھ دوسرے پر رہا ۔ وقار آباد 59.4 فیصد کے ساتھ ضلع میں آخری مقام پر رہا۔ ماہرین تعلیم کے مطابق شہری علاقوں میں ایس ایس سی اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ سوشیل میڈیا کے استعمال میں دوسروں سے آگے ہیں اور ان کا زیادہ تر وقت موبائیل کی سرگرمیوں میں صرف ہورہا ہے۔ والدین کی نگرانی میں کمی اور اسکولوں میں اساتذہ کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں ایس ایس سی اور انٹرمیڈیٹ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں سگریٹ، منشیات اور دیگر نشہ آور چیزوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ رات دیر گئے تک جاگنا اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں دلچسپی کے نتیجہ میں تعلیم سے دوری پیدا ہوچکی ہے۔ شہری علاقوں کا جائزہ لیں تو رات دیر گئے تک بھی کم عمر لڑکوں کی ٹولیوں کو ہوٹلوں کے پاس دیکھا جاسکتا ہے۔ آبادیوں میں صبح تک نوجوان چبوتروں پر سوشیل میڈیا میں مصروف یا پھر منشیات کے استعمال میں محو دکھائی دیتے ہیں۔ حیدرآباد کے گھنے آبادی والے علاقے منشیات کی سربراہی کے مراکز بن چکے ہیں۔ سنسان مقامات اور خاص طور پر پلے گراؤنڈس اور تفریحی گارڈنس نوجوانوں کے مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ رات دیر گئے تک پلے گراؤنڈس میں ٹولیوں کی شکل میں نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ پرانے شہر کے پان شاپس اور مخصوص کرانہ شاپس پر نشہ آور اشیاء بآسانی دستیاب ہیں اور پولیس کی ملی بھگت سے یہ سرگرمیاں جاری ہیں۔ نوجوانوں کو ایس ایس سی اور انٹرمیڈیٹ میں اگر ان سرگرمیوں سے دور رکھا جائے تو وہ تعلیم میں بہتر مظاہرہ کرنے کے موقف میں رہیں گے۔ والدین اور سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ رات کے اوقات میں اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہ دیں اور گھر میں بھی موبائیل فون کے استعمال پر نگرانی رکھیں۔ اسکولوں میں طلبہ کیلئے غیر سماجی سرگرمیوں سے بچاؤ کے لئے اخلاقیات کا درس دیا جانا چاہئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان نسل کو منشیات اور سوشیل میڈیا کی لعنت سے فوری طور پر نہیں بچایا گیا تو آنے والے دنوں میں نوجوان نسل جرائم میں بری طرح پھنس سکتی ہے۔ تفریح اور دیگر خواہشات کی تکمیل کیلئے کم عمر لڑکوں کو سرقہ اور رہزنی جیسے واقعات میں ملوث پایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دیگر اقوام کے مقابلہ مسلم نوجوان ان سرگرمیوں میں زیادہ ملوث ہیں اور ان پر والدین اور سرپرستوں کی خاطر خواہ نگرانی نہیں ہے۔ر