ریاستی مسائل پر یادداشت کی پیشکشی ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی و ڈپٹی چیف منسٹر کی وزیر اعظم و مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات
حیدرآباد 4 جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارک کے ہمراہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرکے مختلف ریاستی امور کو حل کرنے یادداشت حوالہ کی۔ اس یادداشت میں مرکزی حکومت سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ تلنگانہ میں منشیات کی لعنت کے خاتمہ کیلئے چلائی جارہی مہم میں تعاون کے علاوہ ریاست میں سائبر جرائم کی روک تھام کے اقدامات میں مدد فراہم کرے تاکہ ریاست میں دونوں برائیوں کے خاتمہ کو یقینی بنایا جاسکے۔ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر نے وزیر اعظم کو یادداشت میں مرکزی وزارت دفاع کی اراضیات ریاست کے حوالہ کرنے احکام کی اجرائی کی خواہش کی اور کہا کہ انتخابات کے بعد سے حکومت تلنگانہ کی ترقی پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے اور اگر مرکزی حکومت سے تعاون کیاجاتا ہے تو ریاست کی مجموعی ترقی کیلئے متعدد اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ ملاقات کے موقع پر وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تلنگانہ میں پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت 25لاکھ نئے مکانات کی تعمیر کو منظوری فراہم کی جائے اور تلنگانہ کے ہر ضلع میں ایک نوودیالیہ کی تعمیر کی اجازت فراہم کی جائے۔ حکومت کے وفد نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ تلنگانہ میں ریلوے کوچ فیکٹری کی از سر نومنظوری فراہم کی جائے تاکہ حکومت سے ا س کوچ فیکٹری کیلئے اقدامات کا آغاز کیا جاسکے۔ ریونت ریڈی اور ملو بھٹی وکرمارک نے سنگارینی کالریز کو بغیر ہراج کے کان مختص کرنے یادداشت پیش کی اور کہا کہ تلنگانہ میں کانکنی کرنے والی اس منافع بخش عوامی ادارہ کو نقصان سے بچانے وزیر اعظم فوری مداخلت کرکے سنگارینی کالریز کو کان الاٹ کرنے احکامات کی اجرائی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں کستوربا اسکولوں میں آئی ٹی آئی آر پراجکٹ پر عمل کے احیاء کے اقدامات کئے جائیں۔ دورۂ دہلی کے دوسرے دن چیف منسٹر تلنگانہ نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کرکے تلنگانہ کو وصول طلب فنڈس کے متعلق بھی یادداشت حوالہ کرکے کہا کہ حکومت کو فنڈس کی ضرورت ہے تاکہ ترقیاتی کاموں کو جاری رکھا جاسکے۔ وفد نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران تلنگانہ کیلئے 29 آئی پی ایس کی خدمات حوالہ کرنے کی خواہش کی اور کہا کہ حکومت سے ریاست اور مرکز کے درمیان تعلقات کو بہتر رکھتے ہوئے ترقیاتی اقدامات کئے جا رہے ہیں اسی لئے مرکز کو بھی ریاست سے تعاون کرنا چاہئے اور زیر التواء امور کے حل کے ذریعہ ریاست کی ترقی کو یقینی بنانا چاہئے ۔3